پُونچھ مِرَر : نیوز ڈیسک جنوری 12 ،2026۔
سرینگر، 12 جنوری: جموں و کشمیر پولیس نے وادی کشمیر میں مساجد اور مذہبی شخصیات سے متعلق تفصیلی معلومات جمع کرنے کی مشق شروع کر دی ہے، جس کا انکشاف قومی اخبار دی انڈین ایکسپریس میں شائع رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ انڈین ایکسپریس رپورٹ
رپورٹ کے مطابق اس مشق کے تحت مساجد کے مسلک، گنجائش، تعمیراتی لاگت، ماہانہ بجٹ اور مالی وسائل کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مساجد سے وابستہ افراد، جن میں امام، مؤذن، خطیب، انتظامی کمیٹی کے اراکین اور فلاحی شعبوں سے وابستہ افراد شامل ہیں، ان کی ذاتی اور خاندانی تفصیلات بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے چار صفحات پر مشتمل ایک فارم وادی کے مختلف علاقوں میں گردش کر رہا ہے۔ ایک صفحہ مسجد کی معلومات کے لیے مخصوص ہے جبکہ باقی تین صفحات افراد سے متعلق ذاتی معلومات کے لیے ہیں۔
دی انڈین ایکسپریس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ پولیس نے مساجد اور ان سے وابستہ افراد کے بارے میں اتنی بڑی اور تفصیلی معلومات جمع کرنے کا اقدام کیا ہے۔ فارم میں مسلکی شناخت جیسے بریلوی، حنفی، دیوبندی یا اہلِ حدیث کے علاوہ مسجد کی عمارت، منزلوں کی تعداد، اندازاً تعمیراتی لاگت اور فنڈنگ کے ذرائع سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ مزید برآں، ماہانہ اخراجات، بینک اکاؤنٹس، انتظامی ڈھانچہ اور زمین کی نوعیت سے متعلق معلومات بھی طلب کی گئی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسجد کی انتظامی کمیٹی کے اراکین، امام، مؤذن، خطیب اور بیت المال سے وابستہ افراد کی مکمل خاندانی تفصیلات بھی فارم میں شامل ہیں، جن میں تاریخِ پیدائش، موبائل نمبر، ای میل پتے اور تعلیمی قابلیت شامل ہیں۔
اسی کے ساتھ، پاسپورٹ کی تفصیلات، سفری تاریخ، بیرون ملک مقیم رشتہ داروں کی معلومات، ووٹر شناختی کارڈ نمبر، آدھار کی تفصیلات، ڈرائیونگ لائسنس نمبر، راشن کارڈ کی معلومات، بینک اکاؤنٹس، پین نمبر، اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کی تفصیلات بھی فراہم کرنے کو کہا گیا ہے
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ فارم میں ماہانہ آمدنی و اخراجات، جائیداد کی ملکیت اور اس کی اندازاً مالیت، ماضی میں کسی عسکریت پسندی یا مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہونے کا ریکارڈ، سوشل میڈیا پر موجودگی اور استعمال ہونے والی موبائل ایپلی کیشنز کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ والدین، بہن بھائیوں اور بچوں سمیت خاندانی کوائف بھی شامل ہیں۔
اس مشق نے وادی کے کئی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، جہاں بعض افراد نے اسے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔ اگرچہ پولیس نے اس سروے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم رپورٹ میں حوالہ دیے گئے ذرائع کے مطابق یہ عمل کچھ عرصے سے جاری ہے اور افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ بھرے ہوئے فارم جمع کر کے اعلیٰ حکام کو پیش کیے جائیں۔
مزید تازہ ترین خبروں و تبصروں کے لئے پُونچھ مِرَر کو دیکھیں
POONCH MIRROR J&K Police Launch Mosque Survey Across Kashmir: Report J&K Police







Leave a Reply