گزشتہ چند برسوں میں جموں و کشمیر یوٹی کے ضلع پونچھ میں سکیورٹی صورتحال میں بہتری کے مثبت آثار دیکھے گئے ہیں۔ اس میں ضلع پونچھ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) شفقت حسین بھٹ کا اہم کردار مانا جاتا ہے جنھوں نے تعیناتی کے بعد دہشت گردی مخالف آپریشنز، منشیات کے خاتمے، جرائم کی روک تھام اور عوامی فلاح و بہبود کے پروگرامز پر توجہ مرکوز کی۔ چند سرکاری رپورٹس کے مطابق ان کے دور میں کئی بڑے آپریشن کامیاب ہوئے اور مقامی آبادی کے مسائل حل کرنے میں تیزی آئی ہے پیشِ خدمت ہے ان کی پونچھ تعیناتی کے بعد کئے گئے اہم کاموں کی تفصیل
دہشت گردی مخالف آپریشنزاہم مشترکہ کارروائیاں: پولیس اور آرمی کے دو انٹیلیجنس بنیاد پر مشترکہ آپریشنز میں چار پاکستانی دہشت گرد ہلاک ہوئے اور چھ ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ اس سلسلے میں بھاری اسلحہ، ایمونیشن اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔.خفیہ نیٹ ورک کی مضبوطی: 2025 میں پونچھ میں دشمن عناصر کی نشاندہی کے لیے 4,192 سرچ آپریشنز کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً چار گنا تھے۔ اسی طرح 176 تنبیہی اقدامات کیے گئے جن سے دہشت گردانہ سرگرمیوں پر قابو پایا گیا۔مالی معاونت کا قلعہ قمع: دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے سات مقدمات غیرقانونی سرگرمیوں (UAPA) کے تحت درج کیے گئے اور تقریباً 1.04 کروڑ روپے مالیت کی مشکوک جائیدادیں ضبط کی گئیں۔۔خطرناک عناصر کی نگرانی: ایس ایس پی شفقت حسین نے ماسوائے عسکریت پسندوں کے باقی جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھی تفتیشی انداز میں سختی اپنائی۔ پولیس نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور جرائم کے خاتمے میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انٹیلیجنس پر مبنی آپریشنز اور عوامی تعاون نے ضلع میں امن و امان بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
منشیات کے خلاف اقدامات نارکو نیٹ ورکس کا نشانہ: انتظامیہ نے منشیات فروشوں کے خلاف بھی سخت کاروائیاں کیں۔ سرحد پار سے اسمگل ہونے والی ہیروئن اور دیگر منشیات کے کئی ٹھکانے تباہ ہوئے۔ پولیس کے مطابق متعدد اسمگلنگ گروہ پکڑے گئے اور بھاری مقدار میں منشیات ضبط کی گئیں۔قانونی کارروائی: 2025 میں منشیات کے خلاف 41 مقدمات NDPS ایکٹ کے تحت درج کیے گئے اور 57 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اس کے علاوہ پانچ گرفتار منشیات فروش افراد کو پابند ثبوت نہ ہونے پر خصوصی ایکشن (PIT-NDPS) کے تحت حراست میں لیا گیا۔.مالی اثرات: منشیات فنانسنگ روکنے کے لیے 16 بینک اکاؤنٹس منجمد کیے گئے اور منشیات سے وابستہ تقریباً 1.40 کروڑ روپے مالیت کی جائیداد ضبط کی گئی۔ ایس ایس پی کے مطابق ان اقدامات سے منشیات کا کاروبار دبانے میں مدد ملی ہے۔
جرائم کی روک تھام وسیع کریک ڈاؤن: پولیس نے ضلع میں جرائم پیشہ عناصر پر بڑی تعداد میں چھاپے مارے۔ خاص طور پر سرچ آپریشنز میں اضافے سے نہ صرف عسکریت پسندوں بلکہ عام جرائم پیشہ افراد پر بھی گرفت مضبوط ہوئی۔ (4192 سرچ آپریشنز).سماجی امن و امان: ایس ایس پی شفقت حسین کے مطابق 2025 میں نہ صرف دہشت گردی اور منشیات بلکہ دیگر جرائم میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کے انسدادِ جرائم اقدامات اور عوامی تعاون سے ضلع بھر میں مجموعی طور پر امن کی فضا مضبوط ہوئی ہے۔
عوامی فلاح و بہبود اور سماجی مہمات :
سیکورٹی کونہ (Operation Sindoor)
پونچھ کی سرحدی بستیوں پر راکٹ فائرنگ کے دوران ایس ایس پی شفقت حسین کے زیرِ نگرانی آپریشن سندور کے تحت 17,698 شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا اور 197 زندہ گولہ بارود بے خطر کیا گیا۔ یہ قدم ہزاروں شہریوں کی جان بچانے کا باعث بنا۔سرحدی دورے اور عوامی دربار: ایس ایس پی شفقت حسین نے ضلع کے بارڈر علاقوں میں عوامی رابطے بڑھائے۔ دسمبر 2025 میں سرحدی علاقے شاہپور میں ‘تھانہ دیوس’ کے ذریعے عوامی ملاقاتیں کیں جہاں انہوں نے مقامی لوگوں کی شکایات سنی اور کئی مسائل کا موقع پر حل کرایا۔ایل او سی پبلک ڈربار: ضلع کی قیادت نے لائن آف کنٹرول کے نزدیک کرنی اور قصبہ گاؤں کا دورہ کیا۔ ان پبلک ڈربارز میں رہائشیوں نے پانی، بجلی، نقل و حمل اور سکیورٹی جیسے بنیادی مسائل اُٹھائے تو پولیس نے ان کے جلد از جلد حل کا یقین دلایا۔ ڈی آئی جی نے سرحدی مسائل کے حل کی وقت بندی کا وعدہ کیا، جب کہ ایس ایس پی نے کہا کہ پولیس “ہر وقت عوام کے تعاون اور رہنمائی کے لیے دستیاب” رہے گی۔عوامی آگہی اور تعاون: پولیس نے عوام کو منشیات اور خطرات سے آگاہی فراہم کی۔ ایس ایس پی نے منشیات کے نقصانات اور نئے مجرمانہ قوانین (New Criminal Laws) کے متعلق ورکشاپس کروائیں تاکہ نوجوان ان کے تئیں محتاط رہیں۔ ساتھ ہی، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا اینٹی نیشنل عناصر کے بارے میں فوری اطلاع پولیس کو دیں، تاکہ وقت پر ردِ عمل کیا جاسکے۔ اس طریقے سے پولیس-عوامی تعلق میں بہتری آئی ہے اور عوام کا اعتماد بحال ہوا
پولیس اصلاحات اور بہتری: اسپیشل آپریشنز اور انفراسٹرکچر: ایس ایس پی شفقت حسین بھٹ کے دور میں حساس علاقوں میں پولیس کی موجودگی بڑھانے کے لیے نئے اسپیشل آپریشن گروپ (SOG) کیمپ قائم کیے گئے۔ ساتھ ہی، بارڈر پولیس پوسٹس کو اضافی نفری اور جدید آلات سے لیس کیا گیا، جس سے ریڈ ریسپانس اور علاقے پر کنٹرول میں اضافہ ہوا.خفیہ اداروں کو فروغ: انہوں نے اپنے ماتحت افسروں کو ہدایت کی کہ پولیس چوکیوں پر بیٹ سسٹم نافذ رکھا جائے اور گراسی روٹس سطح پر انٹیلی جنس نیٹ ورک مضبوط کیا جائے۔ اس سے مشکوک افراد کی پہلے سے شناخت ممکن ہوئی اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے سیکورٹی نیٹ ورک مضبوط ہوا اور خطرات کا سدباب کیا گیا۔.شفافیت اور عوامی اعتماد: ایس ایس پی نے پولیس فورس میں شفافیت اور عوامی اعتماد بڑھانے کے لیے بھی کام کیا۔ انہوں نے کئی بار عوام کو بتایا کہ ضلع پولیس عوام کی خدمت کے لیے دستیاب ہے اور کسی بھی صورتِ حال میں فوری امداد کرے گی۔ ایل او سی کے گاؤں کے دوروں سے مقامی لوگ اس شراکت داری اور تعاون پر یقین رکھتے ہیں، جس کا ذکر انہوں نے میڈیا کو بھی کیا ہے۔
مجموعی طور پر، ایس ایس پی شفقت حسین بھٹ کے زیرِ نگرانی ضلع پونچھ میں سیکورٹی اور معاشرتی سہولتوں کے متعدد شعبوں میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دہشت گردوں اور منشیات فروشوں کے خلاف بھرپور آپریشنز سے علاقے میں جرائم کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں عوامی مسائل سن کر ان کے فوری حل کی کوششوں اور آگاہی پروگرامز سے مقامی آبادی کا پولیس پر اعتماد بڑہا ہے۔ نئی پولیس اصلاحات اور انفراسٹرکچر کے اضافے سے حساس علاقوں میں رد عمل تیز ہوا ہے۔ ان پیش رفتوں سے امید کی جاسکتی ہے کہ آنے والے وقت میں پونچھ میں امن و امان کے ساتھ عوامی فلاح و بہبود کا معیار مزید بہتر ہوگا۔
ادارتی نوٹ:یہ اداریہ سرکاری پولیس ریکارڈز، فیلڈ رپورٹس اور زمینی سطح پر حاصل کی گئی مشاہدات کی بنیاد پر تحریر کیا گیا ہے۔








Leave a Reply