اردو کالم/مضامین

:آئینہ نفس اور غیروں پر احکامِ قلب
خواجہ اعجاز مدنی۔
جدید نفسیات میں اسے Projection کہا جاتا ہے۔انسان اپنے اندر موجود کمزوریاں، خواہشات، خوف، حسد، یا برائیاںدوسروں پر منتقل کر دیتا ہے۔جو شخص خود جھوٹ بولتا ہے، وہ دوسروں پر جلد جھوٹ کا الزام لگاتا ہے۔جو خود بد نیت ہو، اسے ہر شخص سازشی نظر آتا ہے۔جو خود احساسِ کمتری میں مبتلا ہو، وہ دوسروں کو متکبر سمجھتا ہے۔یہ اس لیے ہوتا ہے کہ: انسان اپنے باطن کا بوجھ قبول کرنے سے گھبراتا ہے،اس لیے اسے باہر منتقل کر دیتا ہے۔یہ نظریہ فرائڈ کے بعد جدید نفسیات میں باقاعدہ تسلیم شدہ ہے۔ایک گہرا فکری اصول ہے: جیسا انسان خود ہوتا ہے، ویسا ہی وہ دنیا کو دیکھتا ہےدل صاف ہو تو: نیتیں صاف نظر آتی ہیں خطاؤں پر بھی حسنِ ظن غالب رہتا ہے۔دل آلودہ ہو تو: ہر بات میں بد نیتی نظر آتی ہے خاموشی بھی سازش لگتی ہے اسی لیے کہا جاتا ہے: نظر گندی ہو تو آئینہ بھی دھندلا دکھائی دیتا ہےتصوف میں یہ بات نہایت گہرائی سے کہی گئی ہے: تو جس کو دیکھتا ہے، دراصل خود کو دیکھتا ہےحضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے قول کا مفہوم: بندہ لوگوں کے عیب اس لیے دیکھتا ہے،کیونکہ وہ عیب اس کے اپنے نفس میں زندہ ہوتا ہے۔اور ایک معروف صوفیانہ قول ہے:مومن کا دل آئینہ ہے،لیکن نفس پرست کا دل،دوسروں کی شکل میں اپنا چہرہ دیکھنے والا آئینہ بن جاتا ہےیہ کہنا غلط ہوگا کہ ہر الزام، ہر تنقید، ہر شک صرف نفس کی عکاسی ہے۔ بعض اوقات:واقعی سامنے والا غلط ہوتا ہے۔بعض خطرات حقیقی ہوتے ہیں۔بعض اعتراضات درست بھی ہوتے ہیں۔ لیکن فرق یہاں ہے: صاف دل تنقید بھی عدل سے کرتا ہے گندا دل سچ بھی نفرت کے ساتھ کہتا ہے۔۔۔۔ اکثر لوگ دوسروں کے بارے میں جو سخت رائے بناتے ہیں۔وہ دراصل ان کے اپنے باطن کا عکس ہوتی ہے۔ انسان لاشعوری طور پر اپنے اندر کے مسائل دوسروں میں تلاش کرتا ہے۔دنیا اکثر انسان کے لیے آئینہ بن جاتی ہے۔ مگر ہر صورت میں نہیں عدل اور شعور لازم ہے




