
سرینگر،: 28 دسمبر:ایک ایسے دور میں جب اسمارٹ فون زیادہ تر نوجوانوں کے لیے محض وقت ضائع کرنے اور توجہ بٹانے کا ذریعہ بن چکے ہیں، سرینگر کے ایک 13 سالہ لڑکے نے اسی موبائل فون کو تخلیق، سیکھنے اور نئے امکانات پیدا کرنے کا ذریعہ بنا لیا ہے۔سرینگر کے علاقے سیدپورہ عیدگاہ سے تعلق رکھنے والے نویں جماعت کے طالب علم ازیر ملک نے خود سیکھنے کے جذبے اور مسلسل محنت کے ذریعے ویب سائٹس، موبائل ایپلیکیشنز اور چیٹ بوٹس تیار کر کے جموں و کشمیر کے ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی شعبے میں اپنی الگ پہچان قائم کر لی ہے۔ ازیر اب تک 31 ایپس پر کام کر چکے ہیں، جو ان کی کم عمری کے باوجود غیر معمولی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ازیر کا کہنا ہے کہ ان کا ٹیکنالوجی اور کوڈنگ کی دنیا میں سفر سال 2021 میں شروع ہوا، جب وہ ڈیجیٹل دنیا کو سمجھنے کی ابتدائی کوشش کر رہے تھے۔ ویب سائٹس اور موبائل ایپس کے کام کرنے کے طریقۂ کار نے انہیں بے حد متجسس کر دیا۔ اس شوق کو مزید تقویت اس وقت ملی جب انہوں نے اپنے والد کے ایک دوست کو ایپ ڈیولپمنٹ کرتے ہوئے دیکھا۔ازیر نے بتایا،“مجھے یہ جاننے کا شوق تھا کہ اسکرین کے پیچھے سب کچھ کیسے کام کرتا ہے۔ یہی تجسس مجھے خود سیکھنے کی طرف لے گیا۔”بغیر کسی باقاعدہ ادارہ جاتی تربیت کے، ازیر نے انٹرنیٹ کو اپنا استاد بنایا۔ یوٹیوب ٹیوٹوریلز، آن لائن لرننگ پلیٹ فارمز اور مختلف ایڈوانس کورسز کے ذریعے انہوں نے ویب اور ایپ ڈیولپمنٹ میں مہارت حاصل کی۔ ان کے مطابق، وہ اب تک ایک درجن سے زائد آن لائن کورسز مکمل کر چکے ہیں۔ازیر کا کہنا ہے کہ ابتدا میں مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑا۔“میں بہت کم عمر تھا اور کئی تصورات سمجھنا مشکل لگتے تھے، لیکن چونکہ مجھے آئی ٹی سے حقیقی دلچسپی تھی، اس لیے میں نے ہار نہیں مانی۔”انہوں نے ابتدا میں ہوٹلز اور گاڑیوں سے متعلق چھوٹی ایپس تیار کیں، جن میں بکنگ سسٹمز اور دیگر سہولیات شامل تھیں۔ ان ابتدائی منصوبوں سے انہیں عملی تجربہ اور اعتماد حاصل ہوا۔ ازیر کے مطابق، ہوٹل انڈسٹری سے متعلق کئی ایپس اس وقت ویری فکیشن کے مرحلے میں ہیں اور جلد ہی ایپ اسٹور پر لانچ کی جائیں گی۔مصنوعی ذہانت (AI) کے بڑھتے ہوئے رجحان، خاص طور پر چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز سے متاثر ہو کر، ازیر نے چیٹ بوٹ ڈیولپمنٹ کی جانب بھی قدم بڑھایا۔ اب تک وہ کم از کم سات چیٹ بوٹس تیار کر چکے ہیں، جن میں سادہ گفتگو سے لے کر مفید اسسٹنٹس تک شامل ہیں۔“اے آئی مستقبل ہے۔ میں یہ سمجھنا چاہتا تھا کہ یہ کیسے کام کرتی ہے اور لوگوں کے لیے کس طرح فائدہ مند ہو سکتی ہے،” ازیر نے کہا۔ازیر کے بڑے اور منفرد آئیڈیاز میں ایک نو کمیشن پلیٹ فارم بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا،“میرا خیال سادہ ہے۔ لوگ بغیر کسی کمیشن کے پلیٹ فارم استعمال کر سکیں۔ یہ چھوٹے کاروباری افراد اور عام لوگوں کے لیے مددگار ہو، نہ کہ ان پر بوجھ بنے۔”ان کا مقصد نوجوانوں اور چھوٹے کاروباروں کے لیے ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بنانا ہے جہاں وہ بغیر کسی فیس یا پوشیدہ اخراجات کے آن لائن آ سکیں۔کشمیر کے سماجی تناظر پر بات کرتے ہوئے ازیر کا ماننا ہے کہ ٹیکنالوجی کا مثبت اور تعمیری استعمال آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔“آج بہت سے نوجوان موبائل فون میں گم رہتے ہیں اور کچھ منفی عادات، جیسے منشیات کی لت، کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم انہی فونز کو ہنر سیکھنے اور کچھ مفید بنانے کے لیے استعمال کریں تو ٹیکنالوجی ایک نعمت بن سکتی ہے،” انہوں نے کہا۔ازیر کے اہم منصوبوں میں ایک آنے والی ایپ فری وینس (FreeVence) بھی شامل ہے، جو اس وقت ویب ورژن میں دستیاب ہے اور جلد مکمل موبائل ایپ کے طور پر لانچ کی جائے گی۔ ازیر کے مطابق، یہ پلیٹ فارم صارفین کو ڈیجیٹل اثاثے خریدنے اور فروخت کرنے اور اپنی آن لائن مہارتوں سے آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔“اگر کسی کے پاس کوئی ہنر ہے، چاہے وہ ڈیزائن ہو، کوڈنگ ہو یا کوئی اور ڈیجیٹل سروس، یہ ایپ اسے کمانے میں مدد دے گی،” ازیر نے کہا۔ازیر اپنی کامیابی کا سہرا اپنے مضبوط سپورٹ سسٹم کو دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے والدین نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔“راستے میں کئی رکاوٹیں آئیں، لیکن میری والدہ اور والد ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے،” انہوں نے کہا۔ دوستوں نے بھی انہیں سیکھنے اور تجربات جاری رکھنے کی حوصلہ افزائی کی۔مستقبل کے حوالے سے ازیر کے خواب بھی بڑے ہیں۔ وہ بھارت کے کسی نامور آئی آئی ٹی میں تعلیم حاصل کر کے اپنی تکنیکی مہارت کو مزید نکھارنا چاہتے ہیں، ساتھ ہی جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے، اسے دوسروں تک پہنچانے کا بھی عزم رکھتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ وہ ایک اے آئی پر مبنی آن لائن ویڈیو ایڈیٹنگ ایپ پر کام کر رہے ہیں، جس کے ذریعے صارفین سادہ ہدایات (پرومپٹس) دے کر ویڈیوز ایڈٹ کر سکیں گے۔“یہ ایڈیٹنگ کو سب کے لیے آسان بنا دے گی،” ازیر نے کہا۔ازیر ملک کے مطابق، کوڈنگ ان کے لیے محض چند سطریں لکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ مواقع پیدا کرنے، روزگار کے دروازے کھولنے اور اس بات کو ثابت کرنے کا ذریعہ ہے کہ اختراع کے لیے عمر کوئی رکاوٹ نہیں۔








Leave a Reply