پونچھ: تحصیل منڈی کے

پونچھ // جموں و کشمیرضلع پونچھ کی تحصیل منڈی کے ایک دور دراز پہاڑی گاؤں اڑائی میں آتشزدگی کے ایک واقعے میں دو رہائشی مکا مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئے۔ متاثرہ مکانات عبدالقیوم اور ان کے بھائی غلام الدین کی ملکیت تھے۔ اس حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم متاثرہ خاندانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔مقامی افراد کے مطابق آگ اچانک ایک مکان میں لگی اور تیزی سے پھیلتے ہوئے قریب واقع دوسرے مکان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ گاؤں میں پانی کی شدید قلت کے باعث لوگ ابتدائی طور پر آگ بجھانے میں ناکام رہے۔ دسمبر کے سرد موسم میں بھی علاقے میں پینے کے پانی کی دستیابی محدود بتائی جا رہی ہے۔واقعے کی اطلاع ملنے پر فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کی گاڑی منڈی سے روانہ کی گئی، تاہم گاؤں تک پہنچنے والی سڑکوں کی حالت اور ان کی تنگی کے باعث فائر بریگیڈ جائے وقوعہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گاڑی پولیس اسٹیشن کے قریب ہی رک گئی، جبکہ اس دوران دونوں مکانات مکمل طور پر جل چکے تھے۔آرائی گاؤں منڈی بلاک کے ان کئی دیہات میں شامل ہے جو پہاڑی جغرافیہ اور محدود بنیادی ڈھانچے کے باعث ہنگامی سہولیات تک فوری رسائی سے محروم ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ بڑے فائر ٹینڈرز ان علاقوں میں داخل نہیں ہو سکتے اور کسی متبادل انتظام کی عدم موجودگی خطرے کو مزید بڑھا دیتی ہے۔علاقے کے لوگوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جل جیون مشن کے تحت چند برس قبل بچھائی گئی پانی کی لائنوں کے دوران پرانے آبی ذرائع متاثر ہوئے، جس کے بعد گاؤں میں پانی کی قلت مزید سنگین ہو گئی۔ ان کے مطابق اگر مقامی سطح پر پانی دستیاب ہوتا تو آگ پر قابو پانے کی کچھ کوشش ممکن ہو سکتی تھی۔مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ سال 2009 میں سڑک کی بہتری کے لیے کام شروع ہوا تھا، لیکن اب بھی یہ راستے ایسے نہیں کہ ایمبولینس، فائر بریگیڈ یا دیگر ہنگامی گاڑیاں بآسانی گاؤں تک پہنچ سکیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں مریضوں یا حادثات سے نمٹنے کے لیے مقامی آبادی خود کو بے بس محسوس کرتی ہے۔علاقہ مکینوں نے ضلع انتظامیہ اور ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پہاڑی اور دور دراز دیہات کے لیے ہنگامی خدمات کا متبادل انتظام کیا جائے، جن میں چھوٹی فائر بریگیڈ گاڑیاں، بہتر سڑکیں اور پانی کی پائیدار فراہمی شامل ہو۔یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو نمایاں کرتا ہے کہ جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں بنیادی سہولیات اور ہنگامی خدمات کو زمینی حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت کس حد تک پوری کی جا سکی ہے۔









Leave a Reply