POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

اتراکھنڈ میں کشمیری شال فروش پر حملہ ناقابلِ برداشت، کسی قیمت پر قبول نہیں کیا جائے گا: وزارتِ داخلہ ہند:

اتراکھنڈ میں کشمیری شال

خبر (ایجنسیز)نئی دہلی/ اتراکھنڈ:مرکزی وزارتِ داخلہ (ایم ایچ اے) نے اتراکھنڈ میں ایک کشمیری موسمی شال فروش پر ہونے والے حملے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ کشمیری شال فروشوں کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی، تشدد یا ہراسانی کسی قیمت پر برداشت نہیں کی جائے گی۔وزارتِ داخلہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایچ اے نے اس واقعے کو نہایت سنجیدگی سے لیا ہے اور یہ بات پوری طرح واضح کر دی گئی ہے کہ کشمیری شال فروشوں کے خلاف اس نوعیت کے اقدامات ناقابلِ قبول ہیں اور ان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ عہدیدار نے زور دے کر کہا کہ کشمیری تاجر بھی دیگر تمام شہریوں کی طرح برابر کے ہندوستانی شہری ہیں اور آئینِ ہند کے تحت انہیں ملک کے کسی بھی حصے میں بلا خوف و خطر کام کرنے اور روزگار اختیار کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق یہ واقعہ پیر، 22 دسمبر 2025 کی دوپہر کو پیش آیا، جب بلال احمد گنی (عمر تقریباً 28 سال)، جو ضلع کپواڑہ، کشمیر سے تعلق رکھنے والا ایک موسمی شال فروش ہے، ضلع ادھم سنگھ نگر کے کاشی پور علاقے میں گھر گھر جا کر شالیں فروخت کر رہا تھا۔ بلال احمد شدید سردیوں کے موسم میں اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کے لیے حسبِ معمول روزگار کے سلسلے میں وہاں موجود تھا کہ اسی دوران اسے روک کر مبینہ طور پر تشدد اور ہراسانی کا نشانہ بنایا گیا۔ذرائع کے مطابق بلال احمد گنی گزشتہ آٹھ برسوں سے زائد عرصے سے اتراکھنڈ میں موسمی طور پر شال فروخت کرنے کے پیشے سے وابستہ ہے اور ہر سال سردیوں کے موسم میں ریاست کا رخ کرتا رہا ہے۔ مقامی سطح پر وہ ایک پرامن، خاموش طبع اور غیر متنازع تاجر کے طور پر جانا جاتا تھا اور اس کے خلاف اس سے قبل کسی بھی قسم کی شکایت یا بدامنی کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔وزارتِ داخلہ نے ریاستی حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشمیری تاجروں اور موسمی مزدوروں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور اس واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور فوری کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزارت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ کسی شہری کو اس کی شناخت، علاقائی وابستگی یا پیشے کی بنیاد پر نشانہ بنانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ آئینی اقدار اور قومی یکجہتی کے سراسر منافی ہے۔مرکزی حکومت کے اس سخت مؤقف کو ایک واضح پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ ملک کے کسی بھی حصے میں کشمیریوں یا کسی بھی شہری کے خلاف نفرت، تشدد یا امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسے واقعات سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔

See also  وزارتِ داخلہ کی بڑی کارروائی: 49 آئی اے ایس اور آئی پی ایس افسران کے تبادلے: جموں و کشمیر سے 7 افسران باہر، 9 نئے افسران کی تعیناتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *