وہ نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ تھے: فاروق مصباحی
POONCH MIRROR NEWS DESK JANUARY 14,2026
پونچھ/: اردو ادب اور صحافت کی دنیا میں ایک عہد ساز شخصیت، معروف شاعر، ادیب اور قومی خدمت گزار شیراز اظہری صاحب کے ناگہانی انتقال نے پورے خطے میں سوگ کی لہر دوڑا دی ہے۔ ادبی حلقوں کے ساتھ ساتھ مذہبی و سماجی رہنماؤں نے بھی اس صدمے کو انتہائی گہرے دکھ کے ساتھ محسوس کیا ہے۔.جماعت اہل سنت صوبہ جموں کے نائب صدر مفتی فاروق حسین مصباحی نے معروف شاعر و ادیب شیراز اظہری کی رحلت کو ادبی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیتے ہوئے گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مرکزی جامع مسجد پونچھ کے خطیب کی جانب سے جاری تعزیتی بیان میں مرحوم کی علمی و ملی خدمات کو سراہا گیا
مرکزی جامع مسجد پونچھ کے ممتاز خطیب و امام اور جماعت اہل سنت صوبہ جموں کے نائب صدر مفتی فاروق حسین مصباحی نے پونچھ مِرَر کے نامہ نگار سے خصوصی بات چیت میں مرحوم شیراز اظہری کی رحلت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے ادبی اور فکری دنیا کا ایک ایسا نقصان قرار دیا جس کی تلافی مشکل ہے۔
مفتی موصوف نے کہا کہ شیراز اظہری محض ایک شاعر یا ادیب نہیں تھے، بلکہ وہ ایک صاحبِ درد انسان، محبِ وطن شہری اور نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ تھے۔ ان کا قلم ہمیشہ حق گوئی اور بے باکی کے لیے مشہور رہا۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی ہمیشہ کوشش کی۔ ان کی ادبی خدمات، خاص طور پر ‘دامنِ شب’ کے ذریعے نوجوان نسل کی رہنمائی، ان کا ایسا کارنامہ ہے جو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
مفتی فاروق حسین مصباحی نے مزید کہا میں نے ان کی مذہبی اور اصلاحی تقریریں خود سُنی ہیں۔ ان کے انداز میں ایک خاص قسم کی صداقت اور خلوص تھا جو سامعین کے دلوں کو موثر طریقے سے چھو جاتا تھا۔ وہ اسلام کی صحیح تصویر پیش کرنے اور نوجوانوں کو راہِ راست پر لگانے کے لیے ہمیشہ کوشاں رہے۔ ان کا ملی مسائل پر گہرا علم اور ان کے حل کے لیے ان کی فکری کاوشیں قابلِ تحسین تھیں۔
مفتی فاروق حسین مصباحی نے مزید کہا کہ شیراز اظہری صاحب کی ادبی خدمات صرف رسالہ ‘دامنِ شب’ تک محدود نہیں تھیں، بلکہ انہوں نے متعدد کتابیں بھی تصنیف کیں جو نوجوان نسل میں اسلامی اقدار اور ادبی ذوق کو پروان چڑھانے کا ذریعہ بنیں۔ ان کی تصنیف ‘شعلہ اور شبنم’ کو خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔
جماعت اہل سنت صوبہ جموں کی طرف سے جاری کردہ تعزیتی بیان میں کہا گیا: شیراز اظہری صاحب کی رحلت پورے علاقے کے لیے ایک عظیم علمی و ادبی خسارہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی معاشرتی اصلاح، ادبی خدمت اور قومی یکجہتی کے لیے وقف کی۔
ہم ان کے ورثے کو آگے بڑھانے کا عہد کرتے ہیں۔شیراز اظہری کا انتقال آج مؤرخہ 14 جنوری کو ہوا۔ وہ طویل عرصے سے ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا رسالہ “دامنِ شب” ادبی حلقوں میں خاص اہمیت کا حامل رہا ہے۔ انہوں نے متعدد کتابیں تصنیف کیں اور ہزاروں نوجوانوں کو اپنے قلم کے ذریعے راہِ راست پر لانے کا فریضہ انجام دیا۔
مرحوم کی رحلت پر مختلف سیاسی، مذہبی، ادبی اور سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تعزیتی پیغامات کا سلسلہ جاری ہے۔
www.poonchmirror.com/mufti-farooq-hussain-misbahi-shiraz-izhari-condolence-ponch









Leave a Reply