تعلیم، آئین

تحریر: خواجہ اعجاز مدنی
کچھ تنازعات ایسے ہوتے ہیں جو کاغذ پر شروع ہوتے ہیں مگر سڑکوں تک آ پہنچتے ہیں، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو سڑکوں سے نکل کر سماج کے اعصاب پر دستک دیتے ہیں۔ جموں میں شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس میں ایم بی بی ایس داخلوں کے بعد اٹھنے والا ہنگامہ بظاہر ایک تعلیمی مسئلہ تھا، مگر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شناخت، خوف، ماضی کی تلخ یادوں اور اجتماعی نفسیات کا ایسا مرکب بن گیا جس نے پورے خطے کو ایک غیر محسوس مگر خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ کالم کسی ایک فریق کی وکالت نہیں کرتا، نہ ہی کسی احتجاج کو مطلقاً درست یا غلط قرار دیتا ہے۔ یہ تحریر صرف یہ سوال اٹھاتی ہے کہ جب تعلیم، قانون اور آئین کے معاملات میں دھمکی کی زبان داخل ہو جائے تو معاشرہ کس سمت میں بڑھتا ہے؟حقائق اپنی جگہ نہایت سادہ ہیں۔شری ماتا ویشنو دیوی انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس ایک نیا میڈیکل ادارہ ہے، جہاں پہلی مرتبہ ایم بی بی ایس کی پچاس نشستوں پر داخلے کیے گئے۔ یہ داخلے: NEET جیسے قومی سطح کے امتحان کی بنیاد پر BOPEE کے ذریعے مکمل طور پر میرٹ کے اصول کے مطابق کیے گئے قانونی اور آئینی سطح پر اس پورے عمل میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوا جہاں اعداد و شمار کو شناخت کے ترازو میں تولنا شروع کیا گیا۔ جیسے ہی یہ بات عام ہوئی کہ منتخب طلبہ کی اکثریت کا تعلق مسلم برادری اور کشمیر وادی سے ہے، ایک تعلیمی فہرست اچانک ایک سیاسی اور سماجی علامت بن گئی۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں معاملہ قانون کے دائرے سے نکل کر جذبات کے میدان میں داخل ہوا۔ جموں میں احتجاج شروع ہونا بذاتِ خود کوئی غیر معمولی بات نہیں۔ جمہوریت میں اختلاف رائے، احتجاج اور سوال اٹھانا شہری حق ہے۔ مگر ہر احتجاج اپنی زبان سے پہچانا جاتا ہے، اور یہی زبان اس کے اخلاقی قد کو طے کرتی ہے گزشتہ دنوں جموں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بعض مظاہرین کی زبان نے سنجیدہ سوالات کھڑے کیے۔ کھلے عام یہ جملہ سننے کو ملا: یہ معاملہ 2008 کے شرائن بورڈ لینڈ تنازع جیسا نہ بن جائے یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا۔ یہ ایک علامتی دھمکی تھی۔ یہ ایک ایسی یادداشت کو زندہ کرنے کی کوشش تھی جو آج بھی اس خطے کے اجتماعی شعور میں ایک زخم کی طرح موجود ہے 2008 کا شرائن بورڈ تنازع جموں و کشمیر کی تاریخ کا وہ باب ہے جسے یاد کرتے وقت آج بھی زبان احتیاط مانگتی ہے۔ وہ محض ایک زمین کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ: مذہبی شناخت سیاسی مفادات عوامی جذبات اور تشدد کا ایسا امتزاج تھا جس نے پورے خطے کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ جب آج کسی تعلیمی مسئلے میں اس واقعے کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ محض یاد دہانی ہے، یا ریاست کو خوف میں مبتلا کرنے کی کوشش؟ صحافتی دیانت داری کا تقاضا ہے کہ ہم اسے صاف لفظوں میں کہیں: یہ زبان دلیل کی نہیں، دباؤ کی زبان ہے۔ یہ احتجاج کو اخلاقی بلندی نہیں دیتی بلکہ اسے ایک نفسیاتی بلیک میلنگ میں بدل دیتی ہے۔یہاں ایک بنیادی قانونی حقیقت کو سمجھنا ناگزیر ہے۔ کسی ادارے کا نام، اس کی مذہبی نسبت یا عوامی عقیدت: اسے قانونی طور پر مذہبی ادارہ نہیں بنا دیتی نہ ہی اسے کسی مخصوص کمیونٹی کے لیے مختص کرنے کا جواز فراہم کرتی ہے SMVDIME: نہ اقلیتی ادارہ ہے نہ اسے Minority Institution کا درجہ حاصل ہے لہٰذا مذہب کی بنیاد پر داخلوں میں ردوبدل: آئین کی خلاف ورزی ہوگا اور عدالت میں ناقابلِ دفاع یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر آج محض اس لیے ایک میرٹ لسٹ منسوخ کر دی جائے کہ اس میں کسی ایک برادری کی تعداد زیادہ ہے، تو کل ہر مقابلہ جاتی امتحان اسی انجام سے دوچار ہوگا۔اس پورے شور و غوغا کے بیچ ایک سچ خاموش کھڑا ہے۔ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس مذہب کے کتنے طلبہ داخل ہوئے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ: جموں اور کشمیر کے درمیان تعلیمی مواقع میں فرق کیوں ہے coaching، رہنمائی اور مقابلہ جاتی تیاری میں عدم توازن کیوں ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن پر ریاست کو بات کرنی چاہیے تھی۔ مگر آسان راستہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ ناکامی کو شناخت کے کھاتے میں ڈال دیا جائے۔ایسے نازک مواقع پر صحافت کا امتحان بھی ہوتا ہے۔ کیا میڈیا: اشتعال انگیز نعروں کو headline بنائے؟ یا قانون، آئین اور عقل کی بات کرے اسی طرح ریاست کا امتحان بھی ہے۔ اگر ریاست: دھمکی کی زبان کے سامنے جھک گئی تو کل ہر تعلیمی فیصلہ ایک ممکنہ بحران بن جائے گا ریاست اگر واقعی امن چاہتی ہے تو: احتجاج کے حق کو تسلیم کرے مگر دھمکی کی سیاست کو واضح طور پر مسترد کرے۔یہ تنازع ایک میرٹ لسٹ سے شروع ہوا، مگر اس کا انجام اس بات پر منحصر ہے کہ ہم اسے کہاں لے جاتے ہیں۔ یا تو ہم: تعلیم کو آئین کے دائرے میں رہنے دیں اور ماضی کو بطور سبق یاد رکھیں یا پھر: ہر اختلاف کو ماضی کی آگ میں جھونک دیں جموں و کشمیر نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ اب یہ خطہ ایک اور یادداشت کی دھمکی کا متحمل نہیں ہو سکتا تعلیم کو سیاست کا ایندھن بنانا آسان ہے،مگر اس کی قیمت ہمیشہ آنے والی نسلیں چکاتی ہیں۔










Leave a Reply