POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

مادری زبان کا شعوری انتخاب: فکری خودی، تہذیبی وقار اور قیادت کی بصیرت

مادری زبان کا

تحریر: مختار حسین مجاز

زبان محض ابلاغ کا ایک وسیلہ نہیں ہوتی، بلکہ یہ انسان شعور، تہذیبی حافظے اور اجتماعی شناخت کا وہ زندہ مظہر ہے جس کے ذریعے اقوام اپنی تاریخ، اپنے اقدار اور اپنی فکری سمت کو محفوظ کرتی ہیں۔ ہندوستان جیسا عظیم، متنوع اور تہذیبوں کا امین ملک جہاں صدیوں سے اردو نے علمی، ادبی اور تہذیبی رشتوں کو جوڑے رکھا ہے، اور جہاں آئینی طور پر ہندی کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے، وہاں کسی عالمی سطح کی دینی و فکری شخصیت کا اظہارِ خیال کے لیے اپنی مقامی اور مادری زبان کا انتخاب ایک غیر معمولی، قابلِ غور اور سبق آموز عمل بن جاتا ہے۔

حضرت شیخ ابوبکر احمد الہندی جیسے جلیل القدر عالم، جنہیں عربی زبان پر کامل عبور حاصل ہے اور جو دنیا کی متعدد زبانوں میں علمی و فکری گفتگو کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر کیرالا کی مقامی اور مادری زبان میں اپنا پیغام پیش کرتے ہیں تو یہ عمل محض سہولت یا جذباتی وابستگی کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک گہری فکری حکمت، تہذیبی خود آگہی اور شعوری قیادت کی علامت ہے۔

فلسفیانہ اعتبار سے دیکھا جائے تو مادری زبان انسان کے لاشعور (Subconscious) کا حصہ ہوتی ہے۔ یہی وہ زبان ہوتی ہے جس میں انسان پہلی بار سوچتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور اپنے وجود کو معنی دیتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی رہنما اپنی مادری زبان میں خطاب کرتا ہے تو وہ محض الفاظ ادا نہیں کرتا بلکہ اپنی تہذیبی روح کو مخاطب کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادری زبان میں دیا گیا پیغام سامع کے ذہن سے زیادہ اس کے دل میں اترتا ہے۔

See also  Drones, Social Media Spectacle, and the Quiet Erosion of Border Security

عصرِ حاضر میں عالمگیریت کے دباؤ نے ایک خطرناک فکری رجحان کو جنم دیا ہے، جس کے تحت طاقتور اور غالب زبانوں کو علم، ترقی اور وقار کی علامت بنا دیا گیا ہے، جب کہ مقامی اور مادری زبانوں کو پسماندگی یا محدود دائرے سے جوڑ کر دیکھا جانے لگا ہے۔ اس تناظر میں شیخ ابوبکر الہندی کا اپنی مقامی زبان کا انتخاب دراصل اس فکری استبداد کے خلاف ایک خاموش مگر مضبوط احتجاج ہے۔ یہ اعلان ہے کہ علم کسی زبان کا غلام نہیں، بلکہ زبان علم کی خادمہ ہوتی ہے۔

یہاں یہ نکتہ بھی نہایت اہم ہے کہ ہندوستان کی تہذیبی روایت کبھی یک لسانی نہیں رہی۔ اردو، ہندی، عربی، فارسی، سنسکرت اور مقامی زبانوں نے مل کر اس خطے کی فکری تشکیل کی ہے۔ ایک باشعور عالم کے لیے ان زبانوں کے درمیان انتخاب کا سوال محض ترجیح کا نہیں بلکہ موقع، مقصد اور مخاطب کی نفسیات کو سمجھنے کا ہوتا ہے۔ کیرالا کی مادری زبان کا انتخاب اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ قیادت اگر واقعی عوامی ہو تو اسے عوام کی زبان اختیار کرنی پڑتی ہے۔

یہ عمل ہمیں ایک گہرا اخلاقی سبق بھی دیتا ہے: کہ اپنی مادری زبان سے وابستگی کسی دوسری زبان کی نفی نہیں، بلکہ فکری توازن کی علامت ہے۔ شیخ ابوبکر الہندی عربی زبان کے ذریعے عالمِ اسلام سے جڑے ہیں، اردو کے ذریعے برصغیر کی علمی روایت سے، اور مقامی زبان کے ذریعے اپنی مٹی، اپنے لوگوں اور اپنی تہذیب سے۔ یہی ہمہ گیر لسانی شعور ایک سچے عالم اور رہنما کی پہچان ہے۔

See also  سوشل میڈیا کی جھوٹی زندگی

فلسفۂ تہذیب کے تناظر میں زبانوں کا تنوع فطرت کے تنوع کی علامت ہے۔ جس طرح کائنات یک رنگ نہیں، اسی طرح انسانی معاشرہ بھی یک زبان نہیں ہو سکتا۔ ہر زبان اپنی فکری ساخت، اپنی جمالیات اور اپنی معنوی وسعت رکھتی ہے۔ کسی ایک زبان کو برتر اور دوسری کو کمتر سمجھنا دراصل انسانی تجربے کی وسعت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔

یہ امر بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ یہ فکری اور تہذیبی پیغام کیرالا یاترا کے تحت مالا پورم میں منعقدہ ایک مرکزی اور غیر معمولی اہمیت کی حامل تقریب کے دوران دنیا کے سامنے آیا۔ یہ تقریب محض ایک علاقائی اجتماع نہیں تھی، بلکہ فکری، سماجی اور تہذیبی سطح پر مرکزیت رکھتی تھی، جہاں ملک اور بیرونِ ملک سے علما، دانشوران، سماجی رہنما اور عوام کی بڑی تعداد شریک تھی۔ ایسے باوقار اور عالمی توجہ کے حامل اسٹیج پر اپنی مادری اور مقامی زبان میں پیغام پیش کرنا اس اقدام کی معنویت کو مزید گہرا اور ہمہ گیر بنا دیتا ہے۔ یہ عمل اس حقیقت کی دلیل ہے کہ مادری زبان نہ صرف مقامی شناخت کا اظہار ہے بلکہ قومی اور عالمی سطح پر وقار، اعتماد اور فکری استحکام کے ساتھ بات کہنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

آج جب دنیا شناخت کے بحران، تہذیبی تصادم اور فکری انتشار سے گزر رہی ہے، ایسے میں مادری زبان کی طرف رجوع ایک فکری استحکام فراہم کرتا ہے۔ یہ انسان کو اس کی جڑوں سے جوڑتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ عالمگیر بننے کے لیے مقامی ہونا شرطِ اول ہے۔ شیخ ابوبکر الہندی کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ جو شخص اپنی مٹی سے جڑا ہوتا ہے، وہی دنیا سے بامعنی مکالمہ کرنے کے قابل ہوتا ہے۔

See also  تعلیم، آئین اور اجتماعی اشتعال: جموں میں ایم بی بی ایس داخلہ تنازع، دھمکیوں کی زبان اور 2008 کی خوفناک بازگشت

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ کیرالا کی مادری زبان کا انتخاب ایک وقتی یا علاقائی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک ہمہ جہت فکری پیغام ہے۔ یہ پیغام ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنی زبانوں کو محض وراثت نہ سمجھیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں؛ انہیں ماضی کی یادگار نہیں بلکہ مستقبل کی بنیاد بنائیں۔ کیونکہ زبان اگر زندہ رہے تو فکر زندہ رہتی ہے، اور فکر زندہ رہے تو قومیں کبھی مردہ نہیں ہوتیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *