POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

جموں و کشمیر میں جائیداد سے متعلق معاملات میں نوٹریوں کی سنگین خلاف ورزیاں حکومت کی نظر میں

حکومت کا سخت انتباہ، نوٹری رجسٹریشن منسوخ کرنے تک کارروائی کا عندیہ جموں و کشمیر میں جائیداد

جموں، 17 دسمبر:جموں و کشمیر میں جائیداد سے متعلق معاملات میں نوٹری پبلک کی جانب سے قوانین کی کھلی خلاف ورزیاں سامنے آنے کے بعد حکومت نے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ سرکاری سطح پر یہ بات انکشاف کے ساتھ تسلیم کی گئی ہے کہ متعدد نوٹریز غیر قانونی طور پر فروخت کے معاہدوں، جائیداد کے کاغذات اور حتیٰ کہ ریاستی زمین سے متعلق دستاویزات کی نہ صرف توثیق کر رہے ہیں بلکہ انہیں عملاً “رجسٹر” شدہ ظاہر کر کے عوام کو گمراہ بھی کر رہے ہیں۔محکمہ قانون، انصاف و پارلیمانی امور کی جانب سے سامنے آنے والے مشاہدات کے مطابق، یونین ٹیریٹری بھر میں نوٹریز اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایسے افعال انجام دے رہے ہیں جو رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت صرف مجاز رجسٹرنگ اتھارٹیز کے لیے مخصوص ہیں۔ نوٹری شدہ فروخت کے معاہدوں کو رجسٹرڈ دستاویزات کا درجہ دینا، فریقین کی غیر موجودگی میں جائیداد کے سودوں کی توثیق کرنا، اور ریاستی زمین سے متعلق کاغذات کی نوٹری کرنا، ایسے اقدامات ہیں جنہیں حکومت نے بادی النظر میں غیر قانونی قرار دیا ہے۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ نوٹری ایکٹ 1952 کے تحت نوٹری کا کردار محض دستاویزات کی تصدیق، دستخطوں کی گواہی، اسناد کی توثیق اور حلف برداری تک محدود ہے۔ نوٹری کو نہ تو جائیداد کی رجسٹریشن کا اختیار حاصل ہے اور نہ ہی وہ غیر منقولہ املاک کی قانونی منتقلی کو جائز قرار دے سکتا ہے۔ تصدیق اور رجسٹریشن کے درمیان فرق، حکومت کے مطابق، قانون میں بنیادی اور طے شدہ اصول ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔تشویشناک امر یہ ہے کہ بعض نوٹریز ایسے دستاویزات تیار کر رہے ہیں جو قانون کی روح سے ناواقف ہوتے ہوئے جائیداد کے سودوں کو قانونی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت نے خصوصی طور پر فروخت کے معاہدوں کی نوٹری پر سخت اعتراض اٹھایا ہے اور واضح کیا ہے کہ فروخت کا معاہدہ بذاتِ خود کسی جائیداد میں حقِ ملکیت پیدا نہیں کرتا۔ ایسے کاغذات کو مؤثر قانونی دستاویز کے طور پر پیش کرنا اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔مزید سنگین صورتحال اس وقت سامنے آئی جب بعض نوٹریز ریاستی زمین سے متعلق دستاویزات میں بھی ملوث پائے گئے۔ حکومت نے دو ٹوک انداز میں اعلان کیا ہے کہ ریاستی زمین کے حوالے سے بنائے گئے ایسے تمام معاہدے ابتدا ہی سے باطل اور قانون کی نظر میں غیر موجود ہیں۔ ان کی نوٹری نہ صرف عوام کو دھوکے میں ڈالتی ہے بلکہ سرکاری اراضی کے غیر قانونی سودوں کو بھی تقویت دیتی ہے۔ان تمام اقدامات کو حکومت نے “سنگین پیشہ ورانہ بدعنوانی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹری رولز 1956 کے رول 13 اور نوٹری ایکٹ 1952 کے تحت ایسی خلاف ورزیوں پر انکوائری، تادیبی کارروائی اور نوٹری کے نام کو سرکاری رجسٹر سے خارج کرنے تک کا اختیار موجود ہے۔واضح پیغام دیتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت نے اپنے مقرر کردہ تمام نوٹریز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر فروخت کے معاہدوں یا ریاستی زمین سے متعلق کسی بھی دستاویز کی نوٹری یا رجسٹریشن سے باز آ جائیں اور قانون میں طے شدہ حدود کے اندر ہی اپنے فرائض انجام دیں۔ حکومت نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں نوٹری رجسٹریشن کی منسوخی بھی شامل ہو سکتی ہے۔

See also  Poonch Child Welfare Committee Rescues Minor from Labor, Reunites Family in Aligarh in Swift Operation:

پونچھ میں بھی جعلی دستاویزات کا خاموش جال: نوٹریوں اور بعض وکلاء کی ملی بھگت سے عدالتی نظام کو یرغمال بنانے کا سنگین رجحانات۔

| ضلع پونچھ میں جائیداد، خاندانی تنازعات اور دیوانی و فوجداری مقدمات کے پس منظر میں ایک نہایت تشویشناک اور خاموش رجحان مسلسل پروان چڑھتا جا رہا ہے، جہاں بعض عناصر مبینہ طور پر نوٹری پبلک کے ذریعے جعلی یا قانونی حیثیت سے محروم دستاویزات تیار کروا کر انہی کاغذات کی بنیاد پر بے گناہ شہریوں کے خلاف مقدمات دائر کروا رہے ہیں۔ اس پورے عمل میں نہ صرف عام شہریوں کو ذہنی، مالی اور سماجی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ معزز عدالتوں کا قیمتی وقت بھی ایسے مقدمات کی نذر ہو رہا ہے جن کی بنیاد ہی مشکوک یا غیر قانونی ہوتی ہے۔قانونی حلقوں اور عدالتی مشاہدات سے وابستہ ذرائع کے مطابق، ان معاملات میں اکثر فروخت کے معاہدے (Agreements to Sell)، پاور آف اٹارنی، حلف نامے، اقرار نامے اور دیگر نوعیت کی دستاویزات نوٹری سے اس انداز میں تصدیق کروائی جاتی ہیں کہ وہ بظاہر قانونی دکھائی دیں، حالانکہ حقیقت میں وہ نہ تو رجسٹرڈ ہوتی ہیں، نہ ہی کسی قانونی حقِ ملکیت کو جنم دیتی ہیں۔ بعد ازاں انہی کاغذات کو بنیاد بنا کر دیوانی مقدمات، فوجداری شکایات، حتیٰ کہ بعض اوقات پولیس کارروائیوں کا آغاز بھی کروا دیا جاتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ نوٹری کا قانونی کردار محض تصدیق اور توثیق تک محدود ہے۔ نوٹری نہ تو کسی جائیداد کو رجسٹر کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی غیر منقولہ ملکیت میں حق یا ملکیت منتقل کرنے کا مجاز ہے۔ اس کے باوجود، پونچھ میں ایسے کئی معاملات سامنے آ چکے ہیں جہاں نوٹری شدہ دستاویزات کو دانستہ یا نادانستہ طور پر رجسٹرڈ یا قانونی طور پر مؤثر ظاہر کیا گیا، جس سے نہ صرف فریقِ مخالف کو نقصان پہنچا بلکہ عدالت کو بھی گمراہ کن مواد فراہم کیا گیا۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ ان معاملات میں بعض وکلاء کا کردار بھی سوالیہ نشان بن رہا ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے مقدمات میں بعض اوقات وکالت کے پیشے سے وابستہ افراد جانتے بوجھتے ہوئے ایسی دستاویزات کو عدالتی کارروائی کا حصہ بناتے ہیں جو قانون کی نظر میں کمزور، غیر مؤثر یا سرے سے ناقابلِ قبول ہوتی ہیں۔ نتیجتاً عدالت کو طویل سماعت، عبوری احکامات اور غیر ضروری کارروائی سے گزرنا پڑتا ہے، جو عدالتی نظام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جعلی یا کمزور بنیادوں پر قائم مقدمات کا سامنا کرتے ہوئے انہیں برسوں عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں، وکیلوں کی فیس، سفری اخراجات اور ذہنی دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے، جبکہ آخرکار جب حقیقت سامنے آتی ہے تو واضح ہو جاتا ہے کہ پورا مقدمہ ہی ایک نوٹری شدہ مگر قانونی حیثیت سے محروم کاغذ پر کھڑا تھا۔ اس دوران نہ صرف ایک بے گناہ شہری کی زندگی متاثر ہوتی ہے بلکہ عدالتی وقت، سرکاری وسائل اور انصاف کی رفتار بھی متاثر ہوتی ہے۔قانونی ماہرین اس صورتحال کو نظامی خرابی (Systemic Abuse) قرار دیتے ہیں، جہاں نوٹری کے دائرہ اختیار کی غلط تشریح، قانونی شعور کی کمی اور بعض عناصر کی بدنیتی مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیتی ہے جس میں جعلی یا مشکوک دستاویزات انصاف کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے نوٹریوں کو سخت انتباہ اور کارروائی کے عندیے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ ضلع پونچھ جیسے حساس علاقوں میں بھی ان معاملات کا سنجیدہ نوٹس لیا جائے گا۔قانونی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ:نوٹری پبلک کے کام کا باقاعدہ آڈٹ اور نگرانی کی جائے،جعلی یا غیر قانونی دستاویزات پر مبنی مقدمات دائر کرنے والوں کے خلاف مثالی کارروائی ہو،اور اگر کسی وکیل یا نوٹری کا کردار بدنیتی پر مبنی ثابت ہو تو اسے پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کے تحت جواب دہ بنایا جائے۔ماہرین کے مطابق، اگر اس رجحان کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ نہ صرف عوام کے نظامِ انصاف پر اعتماد کو مجروح کرے گا بلکہ عدالتی عمل کو ایک ایسے دلدل میں دھکیل دے گا جہاں سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ پونچھ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کی روح کو بحال کیا جائے، نوٹری کے کردار کو اس کی اصل حدود میں رکھا جائے، اور عدالتوں کو جعلی مقدمات کے بوجھ سے نجات دلائی جائےتاکہ انصاف واقعی انصاف بن کر سامنے آ سکے، نہ کہ کاغذی ہتھکنڈوں کا شکار۔

See also  جموں و کشمیر حکومت کا نوٹری نظام ڈیجیٹل کرنے کی سمت بڑا قدم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *