POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

راجوری میں مولوی کی متنازع تقریر، علماء راجوری و پونچھ کے وقار پر سوالیہ نشان

علامتی تصویر (Illustrative Image)

علمی کمی اور غیر مستند دعووں پر مشتمل تقریر، عوامی ناراضگی اور قانونی کارروائی کی فوری مانگ

POONCH MIRROR 10 JANUARY 2026

راجوری: راجوری مولوی متنازع تقریر کے بعد مقامی مذہبی حلقوں میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ ایک نام نہاد مولوی کی حالیہ تقریر میں علم کی کمی کی بنیاد پر متعدد غیر مستند اور متنازع دعوے کیے گئے، جبکہ علما راجوری و پونچھ کو برا بھلا کہہ کر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اس تقریر میں مولوی نے کہا: “ہم جواب دینے کے لیے ابھی زندہ ہیں کیونکہ یزید نے جو فتوہ لیا تھا وہ بھی اٹھارہ ہزار مفتی تھے جنہوں نے امام حسین علیہ السلام کے خلاف قتل کرنے کا فتوہ دیا تھا۔ اے راجوری اور پونچھ کے مولویوں! آپ اس دربار کے خلاف جتنا بھی بولتے ہیں، جتنا بھی بھونکتے ہیں، بھونکو، بولنا ہے بولو، لیکن اس کا جواب دینے کے لیے قرآن و حدیث کی روشنی میں ہم ہیں”۔۔

عوامی حلقوں کے مطابق، اس تقریر سے شدید ناراضگی پیدا ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر یہ معاملہ بحث و مباحثے کا موضوع بن چکا ہے۔ صارفین کے بیانات میں یہ رائے عام ہو گئی ہے کہ جس کا شعبہ علم ہی نہ ہو، وہ بھی علما کو سبق پڑھانے آجاتا ہے۔

سینئر علماء نے اس تقریر کو غیر ذمہ دارانہ اور دینی و اخلاقی حدود کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ:”علماء کے درمیان اختلاف رائے موجود ہو سکتا ہے، لیکن عوامی سطح پر علما کے وقار کو نقصان پہنچانا ناقابل قبول ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ باتوں کو قبول کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔”

See also  Digital Leap in J&K: Online Notary Portal Launched, Inspection Teams to Ensure Transparency:

اس معاملے پر جماعت اہل سنت صوبہ جموں کے لیگل ونگ کے صدر، عبدل مجید خان ایڈوکیٹ نے ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: “ایسی تقریر نے نہ صرف علماء کے وقار کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ امن و امان کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شرپسند عناصر کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے اور ضرورت پڑنے پر انہیں پبلک سیفٹی ایکٹ

(PSA) کے تحت سلاخوں کے پیچھے دھکیل کر علاقے میں امن قائم کیا جائے۔

مقامی ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ مذہبی اور عوامی حلقوں میں بحث و مباحثہ کو ہوا دے رہا ہے، اور علاقائی سطح پر عوام اور علماء دونوں کے درمیان علمی، منطقی اور قانونی بنیادوں پر بات چیت کی ضرورت اجاگر کی گئی ہے۔

یہ واقعہ نہ صرف راجوری بلکہ پورے پونچھ ضلع میں مذہبی وقار، قانون، علم کی اہمیت اور عوامی شعور کے حوالے سے ایک نیا موضوع بحث بن چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *