: دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس
BY:- POONCH MIRROR: 7 JANUARY 2026
پونچھ /:جموں و کشمیر پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ضلع پونچھ سے تعلق رکھنے والے ان افراد کے خلاف بڑی اور فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کر دیا ہے جو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران غیر قانونی طور پر لائن آف کنٹرول عبور کرکے پاکستان مقبوضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) یا پاکستان چلے گئے اور مبینہ طور پر وہاں سے ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ایسے 310 افراد کی نشاندہی مکمل کر لی گئی ہے جن کی جائیدادیں قانون کے مطابق ضبط (اٹیچ) کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ یہ فہرست ایک طویل، منظم اور کثیر سطحی مشق کے بعد تیار کی گئی ہے، جس میں زمینی سروے، خفیہ معلومات، تکنیکی شواہد اور مالی اثاثوں کی جانچ شامل ہے۔ اگرچہ فی الحال ان افراد کے نام صیغۂ راز میں رکھے گئے ہیں، تاہم بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 30 برسوں کے دوران ضلع پونچھ کے مختلف علاقوں سے تقریباً 2500 افراد غیر قانونی طور پر سرحد پار گئے، جن میں سے 310 افراد کا کردار دہشت گردی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں نمایاں طور پر سامنے آیا۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق ان افراد پر الزام ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر دراندازی کی کوششوں کو سہولت فراہم کرتے رہے،اسلحہ اور گولہ بارود کی اسمگلنگ میں ملوث رہے،ڈرونز اور دیگر ذرائع سے منشیات کی ترسیل میں کردار ادا کیا،اور سوشل میڈیا کے ذریعے مقامی نوجوانوں کو ریڈیکلائز کر کے غلط راہوں پر ڈالنے کی کوششیں کرتے رہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ان 310 افراد میں سے بعض کا تعلق لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور حزب المجاہدین جیسے ممنوعہ تنظیموں سے بتایا جا رہا ہے، جبکہ کچھ افراد ان تنظیموں کے لیے سہولت کار کے طور پر کام کرتے رہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جن افراد کی نشاندہی کی گئی ہے، ان میں اکثریت کا تعلق مینڈھر، سرنکوٹ اور ساوجیاں کے علاقوں سے بتایا جاتا ہے۔ کارروائی کے پہلے مرحلے میں تقریباً دو درجن جائیدادیں پہلے ہی ضبط کی جا چکی ہیں، جبکہ 20 سے 25 مزید جائیدادوں کو 26 جنوری تک قانونی طریقہ کار مکمل کرتے ہوئے ضبط کیا جائے گا۔ باقی اثاثے بھی آئندہ دنوں میں مرحلہ وار طور پر اٹیچ کیے جائیں گے۔
سیکیورٹی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور پی او جے کے سے آپریٹ کرنے والے عناصر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے پونچھ اور راجوری کے نوجوانوں سے مسلسل رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ایسی بیشتر کوششوں کو بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق آن لائن سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کو فوری طور پر قانون کے دائرے میں لایا جا رہا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کے سینئر افسران نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں امن و امان کو متاثر کرنے والی کسی بھی سرگرمی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائی گئی ہے اور آئندہ بھی ایسی کارروائیاں بلا توقف جاری رہیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ دراندازی، منشیات اسمگلنگ اور نوجوانوں کو شدت پسندی کی طرف مائل کرنے کی ہر کوشش کو سختی سے کچلا جائے گا، تاکہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔









Leave a Reply