قبروں میں کتوں کا بسیرا
سرنکوٹ کے ایک قبرستان کا احوال
اے زمانے کے بے حس مسافرو! سنو، وہ چیخ جو شب کی تاریکی میں قبروں کی مٹی سے اٹھ رہی ہے۔ وہ قبریں، جو انسانی فنا کی یادگار ہیں، آج بھی اپنے اندر بے شمار داستانیں چھپائے رکھتی ہیں۔ مگر آج یہ قبریں زندہ انسانوں کی بے حسی کا سامنا کر رہی ہیں۔ یہاں، سرنکوٹ ضلع پونچھ کے دروشہید قبرستان میں، کتے بس گئے ہیں بھوک اور سردی سے بچنے کے لیے قبروں کی گود میں اپنا بسیرا کر لیا ہے۔
تصور کرو: ایک ویران قبرستان، قبریں کھلی ہوئی، مٹی کے سینے پر زخموں کی طرح پڑی ہیں۔ اور ان قبروں کے اوپر، وہ کتے بیٹھے ہیں، سر اٹھائے، آنکھیں خوف اور تنہائی سے جھلملاتی ہیں، جیسے انسانوں سے سوال کر رہے ہوں: “یہ کیسی بے حسی ہے؟ یہ ہمارا حق نہیں، پھر بھی ہمیں یہاں پناہ ملی۔” ایک کتا سمٹا ہوا، جیسے ماں کی گود میں چھپا ہو، جانتا ہے کہ یہ جگہ اس کی نہیں، مگر مجبوری نے اسے مجبور کر دیا۔
یہ مناظر صرف تصاویر نہیں، یہ آئینے ہیں ہماری موت زدہ ضمیروں کے۔ زندہ انسان دیکھتے ہیں، مگر نہیں دیکھتے۔ سنتے ہیں، مگر نہیں سنتے۔ محسوس کرتے ہیں، مگر نہیں محسوس کرتے۔ وہ وقف بورڈ، جو سات سالوں سے اس مقدس مقام کی حفاظت میں ناکام ہے، آج سوالوں کے گھیرے میں ہے۔ سات سال! اتنا عرصہ جو درخت کو پھلدار کر سکتا ہے، ایک بچے کو جوان بنا سکتا ہے، یہاں قبریں ویران پڑی ہیں، اور کتوں نے بسنے کی جرات کی ہے۔ یہ صرف غفلت نہیں، یہ ایک جرمِ معاشرتی اور بے ضمیری کی انتہا ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے مردوں کی قبروں کے بارے میں اتنے بے حس ہو جائیں؟ کیا یہ وہ ایمان ہے جو صرف زبانی دعووں تک محدود ہے اور عمل کی دنیا میں مردہ ہو گیا ہے؟ یہ قبریں صرف مٹی کے ڈھیر نہیں، یہ ہماری تاریخ، ثقافت، اور ایمان کی علامتیں ہیں۔ اور آج، وہیں کتے بس گئے ہیں۔
اے زندہ انسانو! تمہارے دل دھڑک رہے ہیں، مگر تم دیکھنے اور سننے کی ہمت نہیں رکھتے۔ یہ قبریں تمہاری اپنی ہیں؛ یہ مردے تمہارے آباؤ اجداد ہیں۔ آج کتوں نے ان میں بسیرا کر لیا ہے، کل تم خود وہاں لیٹو گے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری قبروں پر بھی یہی تماشا ہو؟
یہ وقت ہے جاگنے کا! یہ لمحہ ہے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا! اٹھو، قبرستان کی حفاظت کرو۔ وقف بورڈ کو جواب دہ بناؤ۔ دیواریں کھڑی کرو، صفائی کرو، اور اس مقدس جگہ کو اس کی اصل حرمت واپس دو۔ ورنہ یاد رکھو، تاریخ تمہیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور وہ ضمیر جو آج مردہ ہے، کل قیامت کے دن جاگیں گے مگر تب بہت دیر ہو چکی ہوگی۔
آج جن قبروں میں کتوں نے بسیرا کیا ہوا ہے، وہ قبریں کبھی زندہ انسانوں کی گواہ تھیں، وہ مردے کبھی ہماری طرح دنیا میں سانس لیتے تھے، ہنسے تھے، روتے تھے، محبت کی تھی، خوف محسوس کیا تھا، خواب دیکھے تھے۔ مگر آج وہیں کتے بسیرا کر چکے ہیں، اور یہ منظر ہماری اپنی بے حسی اور غفلت کی روشن نشانی ہے۔ یہ واضح پیغام ہے کہ ہم نے قبرستانوں کا رخ کرنا، اپنی تاریخ اور اپنے آباؤ اجداد کی یاد میں جھکنا چھوڑ دیا ہے۔ اور یاد رکھو، جو آج ہم کر رہے ہیں، یعنی اپنے مردوں کی قبروں کی بے حرمتی کو برداشت کرنا، بالکل ویسا ہی کل ہماری اپنی قبروں کے ساتھ بھی ہوگا۔ شاید اس سے بھی برا۔ کیونکہ وہ دن قریب ہے جب ہمارے جسم بھی مٹی میں دفن ہوں گے، اور اگر آج ہم ضمیر کی آواز نہیں سنیں، اگر آج ہم عمل نہیں کریں، تو کل ہماری قبر بھی ویسی ہی ویران ہوگی، جس میں کوئی توجہ، کوئی احترام، کوئی انسانی محبت نہیں ہوگی۔ اور تب نہ کوئی کلمہ، نہ کوئی دعا، نہ کوئی زبان سے ادا کیا ہوا ایمان ہماری بے حسی کی سزا سے بچا سکے گا۔ یہ لمحہ ہے جاگنے کا، یہ وقت ہے ضمیر کو جھنجھوڑنے کا، کہ ہم زندہ ہیں، اور ابھی اپنی حرمت اور ایمان کی حفاظت کر سکتے ہیں—ورنہ قیامت کے دن بھی یہ سبق یاد رہے گا، مگر اس سے سیکھنے کا موقع کھو چکا ہوگا۔یاد رکھیے کہ مردے تو چلے گئے، مگر تم زندہ ہو ابھی۔








Leave a Reply