این آئی اے عدالت نے او جی
این آئی اے ایکٹ کے تحت قائم خصوصی عدالت سری نگر نے ممنوعہ تنظیم البدر سے مبینہ تعلق کے ایک کیس میں تین افراد کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے واضح طور پر کہا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ فیصلہ خصوصی جج منجیت رائے نے سنایا، جس میں ضلع کولگام کے رہائشی وجید احمد بٹ، مسرت بلال عرف بھرو اور رمیز احمد ڈار کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعات 13، 23 اور 39 کے تحت عائد تمام الزامات سے بری کر دیا گیا۔
استغاثہ کے مطابق 10 اکتوبر 2022 کو پولیس نے تینوں افراد کو سری نگر کے ریکھ چوک علاقے سے سیکیورٹی لائن کی جانب مشتبہ حالت میں جاتے ہوئے حراست میں لیا تھا۔ تلاشی کے دوران وجید احمد بٹ اور مسرت بلال سے ایک ایک لائیو گرینیڈ جبکہ رمیز احمد ڈار سے ایک اے کے-47 میگزین، 30 گولیاں اور 47,500 روپے نقد برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
پولیس نے برآمد شدہ سامان کو ضبط کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن بٹامالو میں ایف آئی آر نمبر 154/2022 درج کی، جس کے بعد کیس این آئی اے عدالت کے سپرد کیا گیا۔ تفتیش کے دوران ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔
تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کیس پراپرٹی، تحویل کی زنجیر، گواہوں کی موجودگی اور شناخت کے عمل میں سنگین قانونی خامیاں پائی گئیں۔ عدالت کے مطابق یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ملزمان واقعہ کے وقت بغیر اجازت ہتھیاروں اور گولہ بارود کے قبضے میں تھے، جس کے باعث آرمز ایکٹ کے الزامات بھی ثابت نہیں ہو سکے۔
عدالت نے ریکارڈ پر کہا کہ یو اے پی اے کے تحت محض ہتھیاروں کی مبینہ برآمدگی کافی نہیں ہوتی بلکہ کسی دہشت گردانہ سرگرمی، مخصوص نیت یا ممنوعہ تنظیم سے عملی تعلق کے ناقابلِ تردید شواہد ضروری ہوتے ہیں، جو اس کیس میں موجود نہیں تھے۔
عدالت نے مزید نوٹ کیا کہ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس میں کوئی مشتبہ لین دین نہیں پایا گیا، نہ ہی ان کے گھروں یا قبضے سے کسی ممنوعہ تنظیم سے متعلق کوئی لٹریچر، پوسٹر یا مواد برآمد ہوا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری قانون کے بنیادی اصول کے مطابق شک، چاہے کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، ثبوت کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ عدالت نے تینوں ملزمان کو تمام الزامات سے بری کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا حکم دیا، بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہوں۔









Leave a Reply