POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

جموں و کشمیر میں مردم شماری 2027 کی تیاریاں تیز

انتظامیہ نے ابتدائی خاکہ تیار کر لیا، ہاؤس لسٹنگ مرحلے پر خصوصی توجہ: مردم شماری 2027

POONCH MIRROR JANUARY 11, 2026

جموں/سرینگر:جموں و کشمیر میں مردم شماری 2027 کے انعقاد کے لیے انتظامی سطح پر تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ یونین ٹیریٹری انتظامیہ نے اس قومی عمل کو منظم، شفاف اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ابتدائی لائحہ عمل تیار کر لیا ہے، جس کے تحت آئندہ مہینوں میں مختلف سطحوں پر مشاورتی اجلاس، افسران کی تربیت اور ڈیٹا اکٹھا کرنے کے طریقۂ کار کو حتمی شکل دی جائے گی۔

سرکاری ذرائع کے مطابق مردم شماری کے پہلے مرحلے، یعنی ہاؤس لسٹنگ اور ہاؤسنگ مردم شماری کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے، کیونکہ یہی مرحلہ آبادی، رہائشی حالات، بنیادی سہولیات اور سماجی و معاشی ڈھانچے کی درست تصویر پیش کرتا ہے۔ انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پر مستقبل کی پالیسی سازی، ترقیاتی منصوبہ بندی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔

انتظامیہ نے عندیہ دیا ہے کہ مردم شماری کے عمل میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا جائے گا۔ فیلڈ اسٹاف کو جدید آلات، موبائل ایپلی کیشنز اور آن لائن ڈیٹا انٹری سسٹمز سے لیس کیا جائے گا تاکہ معلومات کے اندراج میں غلطیوں کے امکانات کم سے کم ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی اور رازداری کو یقینی بنانے کے لیے بھی خصوصی پروٹوکول مرتب کیے جا رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق جموں و کشمیر جیسے جغرافیائی اور سماجی اعتبار سے حساس خطے میں مردم شماری ایک پیچیدہ عمل ہے، جہاں پہاڑی علاقوں، دور افتادہ بستیوں اور سرحدی خطوں تک رسائی ایک بڑا چیلنج ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں ضلعی اور تحصیلی سطح پر افسران کو پہلے ہی ہدایات جاری کی جا چکی ہیں کہ وہ مقامی زمینی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی تیاری کریں، تاکہ کوئی آبادی مردم شماری کے عمل سے باہر نہ رہ جائے۔

See also  NMC Revokes Recognition of Shri Mata Vaishno Devi Institute of Medical Excellence

قابلِ ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں یہ مردم شماری کئی حوالوں سے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ آبادیاتی اعداد و شمار نہ صرف ترقیاتی منصوبوں بلکہ مستقبل میں انتخابی حلقہ بندی، تعلیمی و صحت سہولیات کی منصوبہ بندی اور روزگار سے متعلق پالیسیوں پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ درست اور جامع مردم شماری ہی کسی بھی خطے کی حقیقی ضروریات کو اجاگر کرتی ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون کے بغیر مردم شماری کا یہ عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے آنے والے دنوں میں بیداری مہم شروع کی جائے گی، تاکہ لوگوں کو مردم شماری کی اہمیت، طریقۂ کار اور اپنے درست کوائف فراہم کرنے کی ضرورت سے آگاہ کیا جا سکے۔

سرکاری سطح پر یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ مردم شماری کے تمام مراحل آئینی تقاضوں اور مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق انجام دیے جائیں گے، اور کسی بھی قسم کی کوتاہی یا لاپرواہی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

مردم شماری 2027 کو جموں و کشمیر کی مستقبل کی منصوبہ بندی کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے، جس کے نتائج آنے والے کئی برسوں تک اس خطے کی سیاسی، سماجی اور معاشی سمت کا تعین کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *