پونچھ میں جعلی نوٹری
جموں و کشمیر حکومت نے جاری سرکلر میں نوٹریز کو خبردار کیا، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی رجسٹریشن پر فوری کارروائی کا مطالبہ
پونچھ، جموں و کشمیر – 31 دسمبر 2025 (خصوصی رپورٹ)جموں و کشمیر کے حساس ضلع پونچھ کی عدالتوں میں جعلی نوٹری دستاویزات کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جہاں بے گناہ شہریوں کی جائیدادیں اور زندگی کے بنیادی حقوق شدید خطرے میں ہیں۔ عدالت کے کوریڈورز میں انصاف کی تلاش کرنے والے لوگ فرضی معاہدوں، جعلی دستخطوں اور انگشتی نشانات کی بنیاد پر مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے معزز عدالتوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے اور شہری ذہنی، مالی اور سماجی دباؤ میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔جموں و کشمیر حکومت نے حال ہی میں جاری کردہ سرکلر میں نوٹریز کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ صرف دستاویزات کی توثیق، گواہی یا سرٹیفکیشن کریں۔ فروخت معاہدوں اور سرکاری زمینوں سے متعلق دستاویزات کی غیر قانونی رجسٹریشن یا نوٹری کرنا قانونی خلاف ورزی ہے۔ سرکلر میں نوٹریز ایکٹ 1952 اور رولز 1956 کے تحت نوٹریز کے دائرہ اختیار کو واضح کیا گیا ہے۔تاہم، ضلع پونچھ میں یہ سرکلر ابھی تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ عدالتوں کے قریب متعدد نوٹری سینٹرز اور بروکرز کا فعال نیٹ ورک موجود ہے جو جعلی دستخط، انگشتی نشانات اور نقد رقم کے مبالغہ آمیز ذکر کے ساتھ معاہدے تیار کرتے ہیں، اور وکلاء انہی دستاویزات کی بنیاد پر مقدمات دائر کرتے ہیں۔ نتیجتاً حقیقی مالکان اپنی جائیدادیں کھو دیتے ہیں، جبکہ فراڈ کرنے والے غیر قانونی فائدہ اٹھاتے ہیں۔ضلع پونچھ کا پس منظرپونچھ ایک حساس سرحدی ضلع ہونے کی وجہ سے زمین کے تنازعات زیادہ پیچیدہ ہیں۔ 1947 کے بعد سے جائیداد اور وراثتی تنازعات عام ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں جعلی نوٹری معاہدات نے صورتحال کو شدید بنا دیا ہے۔ جعلی ڈیڈز اور سیل ایگریمنٹس کی تیاری ایک منظم نیٹ ورک بن چکی ہے، جہاں ایک ہی پلاٹ کو متعدد بار فروخت کیا جاتا ہے۔وکلاء کی ملی بھگت کچھ وکلاء جان بوجھ کر جعلی دستاویزات کو مقدمات میں شامل کرتے ہیں، جس سے عدالت میں مقدمات طویل اور پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ اقدام پیشہ ورانہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے اور ایسے وکلاء کے خلاف سخت کارروائی ضروری ہے۔انسانی المیہ جعلی نوٹری دستاویزات کی وجہ سے متاثرہ افراد ذہنی دباؤ، مالی نقصان اور خاندان کی بربادی کا شکار ہیں۔ نفسیاتی ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں متاثرین میں ڈپریشن اور پوسٹ ٹرامیٹک سٹریس ڈس آرڈر عام ہیں، جو سرحدی علاقوں میں پہلے سے موجود تناؤ کے سبب سنگین ہو جاتے ہیں۔حکومت کا پیغام اور مطالبہ نوٹریز اپنے قانونی دائرہ اختیار میں Exactly قانونی رجسٹریشن یا سرکاری زمین کے معاہدے میں حصہ نہ لیں ملوث وکلاء اور نوٹریز کا مکمل آڈٹ اور نگرانی متاثرین کو فوری معاوضہ فراہم کیا جائےڈیجیٹل رجسٹریشن سسٹم متعارف کروایا جائے تاکہ دستاویزات آن لائن وریفائی ہوں حکومت کا سرکلر ایک مثبت قدم ہے، مگر اب اس پر فوری عملدرآمد ضروری ہے تاکہ بے گناہ شہری محفوظ رہ سکیں اور انصاف بحال ہو۔









Leave a Reply