POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

سوشل میڈیا کی جھوٹی زندگی

از قلم/ تسلیمہ اختر

پُونچھ مِرَر ماہنامہ/ مضامین

انسان فطرتاً سماجی مخلوق ہے۔ اسے دوسروں سے جڑنے، بات کرنے اور اپنے احساسات بانٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ذرائع بدلتے گئے، کبھی خط ہوتے تھے، پھر فون آئے اور اب سوشل میڈیا نے دنیا کو ایک چھوٹی اسکرین میں قید کر دیا ہے۔ بظاہر یہ ایجاد انسانوں کو قریب لانے کے لیے تھی، مگر آہستہ آہستہ اس نے فاصلے کم کرنے کے بجائے دلوں کے درمیان خلا بڑھا دیا۔

سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسی دنیا دی جہاں ہر شخص اپنی مرضی کی حقیقت بنا سکتا ہے۔ یہاں انسان وہ دکھاتا ہے جو وہ دکھانا چاہتا ہے، نہ کہ وہ جو وہ جیتا ہے۔ اسی لیے اسے اکثر جھوٹی زندگی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہاں حقیقت کم اور نمائش زیادہ ہوتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمیں ہر طرف خوشی نظر آتی ہے۔ ہر گھر خوبصورت، ہر رشتہ مضبوط، ہر چہرہ پُرسکون اور ہر انسان کامیاب دکھائی دیتا ہے، لیکن اگر ہم غور کریں تو محسوس ہوگا کہ یہ مکمل حقیقت نہیں بلکہ حقیقت کا صرف ایک منتخب حصہ ہے۔ کوئی بھی انسان اپنی پریشانیوں، لڑائیوں، مالی مشکلات یا ذہنی دباؤ کو پوسٹ نہیں کرتا۔ لوگ صرف کامیابی، خوشی اور خوبصورتی دکھاتے ہیں۔ یوں دیکھنے والا یہ سمجھنے لگتا ہے کہ شاید صرف وہی مشکلات میں ہے جبکہ باقی سب مطمئن ہیں۔ یہی خیال انسان کے اندر احساسِ محرومی پیدا کرتا ہے۔

موازنہ: بے چینی کی جڑ

سوشل میڈیا کی سب سے خطرناک عادت موازنہ ہے۔ انسان اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی سے ناپنے لگتا ہے۔ اگر کسی دوست نے نیا گھر لیا تو اپنا گھر چھوٹا لگنے لگتا ہے۔ کسی کی شادی کی تصویریں دیکھ کر اپنی زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے، کسی کے سفر دیکھ کر اپنا معمولی دن بوجھ لگنے لگتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی کا صرف خوبصورت حصہ دیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی زندگی کا مکمل بوجھ محسوس کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ غیر مساوی موازنہ دل میں بے چینی، حسد اور اداسی پیدا کرتا ہے۔

See also  جعلی شاہانہ خانوادوں کی حقیقتِ عریاں اور عاداتِ موروثی کا بیان

دکھاوے کی نفسیات

سوشل میڈیا نے انسان کو دکھانے کا عادی بنا دیا ہے۔ اب کام کرنے سے زیادہ اسے دکھانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ کھانے سے پہلے تصویر، تحفہ ملنے سے پہلے پوسٹ، سفر سے پہلے اسٹوری۔یہ عادت آہستہ آہستہ انسان کی نیت بدل دیتی ہے۔ وہ خوشی محسوس کرنے کے بجائے خوشی ثابت کرنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ اس طرح اصل احساس ختم ہو جاتا ہے اور صرف اس کا اظہار باقی رہ جاتا ہے۔

فلٹرز اور خودی کی گمشدگی

تصاویر پر فلٹر لگانا صرف چہرہ نہیں بدلتا بلکہ سوچ بھی بدل دیتا ہے۔ انسان اپنے اصل چہرے کو قبول کرنا چھوڑ دیتا ہے اور ایک مصنوعی خوبصورتی کا عادی ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً اعتماد کم ہوتا جاتا ہے اور احساسِ کمتری بڑھنے لگتا ہے۔انسان حقیقت سے دور ہو کر ایک ایسی شناخت بنا لیتا ہے جو صرف اسکرین تک محدود ہوتی ہے۔

رشتوں پر اثرات

سوشل میڈیا نے رابطہ آسان کیا مگر تعلق کمزور کر دیا۔ اب لوگ ساتھ بیٹھ کر بات کم اور ایک دوسرے کو آن لائن دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔پہلے ملاقات میں جذبات ہوتے تھے،اب چیٹ میں الفاظ ہوتے ہیں۔پہلے غم سنائے جاتے تھے،اب اسٹیٹس لگائے جاتے ہیں۔یوں رشتوں کی گہرائی کم ہو گئی ہے اور رسمی تعلق بڑھ گئے ہیں۔

ذہنی صحت پر اثر

مسلسل موازنہ، توجہ کی خواہش اور دوسروں کی زندگی دیکھنا انسان کے ذہن پر بوجھ ڈال دیتا ہے۔ وہ خود کو ناکام، اکیلا یا کم تر محسوس کرنے لگتا ہے۔ لائکس کم آئیں تو اداسی، زیادہ آئیں تو عادت—دونوں صورتوں میں سکون نہیں ملتا۔ یوں انسان ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں وہ خود کو دوسروں کی رائے سے ناپنے لگتا ہے۔

See also  تعلیم، آئین اور اجتماعی اشتعال: جموں میں ایم بی بی ایس داخلہ تنازع، دھمکیوں کی زبان اور 2008 کی خوفناک بازگشت

اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں بلکہ ہمارا استعمال ہے۔ یہ ایک ذریعہ تھا رابطے کا، ہم نے اسے معیارِ زندگی بنا لیا۔یہ معلومات کا ذریعہ تھا، ہم نے اسے عزت کا پیمانہ بنا لیا۔ جب انسان اپنی قدر دوسروں کے ردِعمل سے جوڑ لیتا ہے تو وہ خود سے دور ہو جاتا ہے۔

حل: انسان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا حقیقت نہیں، عکس ہے۔یہ زندگی کا حصہ ہو سکتا ہے مگر زندگی نہیں۔ اپنی زندگی کو دوسروں سے نہ ناپیں، کم دیکھیں زیادہ محسوس کریں، کم دکھائیں زیادہ جئیں۔ اصل رشتوں کو وقت دیں۔جب انسان اسکرین سے نکل کر لوگوں میں جینا شروع کرتا ہے تو سکون واپس آ جاتا ہے۔

نتیجہ:- ایک دن ایسا آئے گا جب ہماری پروفائل خاموش ہو جائے گی۔ نہ پوسٹ رہے گی، نہ اسٹیٹس، نہ لائکس، نہ کمنٹس۔ اس دن کسی کو ہماری تصویروں کی خوبصورتی یاد نہیں رہے گی بلکہ ہمارا رویہ یاد رہے گا، ہماری باتیں یاد رہیں گی اور وہ لمحے یاد رہیں گے جو ہم نے حقیقت میں کسی کے ساتھ گزارے تھے۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم سوشل میڈیا کو زندگی نہ بنائیں بلکہ زندگی کو زندگی رہنے دیں، کیونکہ اصل خوشی اسکرین کی روشنی میں نہیں بلکہ دل کے اطمینان میں ہوتی ہے۔زندگی دکھانے کے لیے نہیں، محسوس کرنے کے لیے ہوتی ہے۔

وضاحت:- مذکورہ مضمون میں پیش کیے گئے خیالات و آرا مصنف کی ذاتی ملکیت ہیں اور ضروری نہیں کہ ادارۂ اخبار ان سے اتفاق کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *