POONCH MIRROR 7 JANUARY
ریاسی: شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کی منظوری منسوخ :شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کی منظوری منسوخ جمّو و کشمیر میں اعلیٰ طبی تعلیم کے خواب کو شدید دھچکا لگاتے ہوئے نیشنل میڈیکل کمیشن (NMC) نے شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس، ریاسی کو دی گئی MBBS کورس کی منظوری (Letter of Permission) واپس لے لی ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ادارہ تعلیمی، انتظامی اور سیاسی سطح پر ایک بڑے بحران کی زد میں آ گیا ہے، جبکہ درجنوں طلبہ کا مستقبل ایک بار پھر غیر یقینی کیفیت سے دوچار ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، این ایم سی کی جانب سے کرائی گئی تفصیلی انسپیکشن میں ادارے کے انفراسٹرکچر، فیکلٹی کی دستیابی، کلینیکل سہولیات اور تدریسی معیار سے متعلق متعدد سنگین خامیاں سامنے آئیں، جنہیں کمیشن نے “ناقابلِ قبول” قرار دیا۔ انہی بنیادوں پر کمیشن نے 2025-26 کے لیے MBBS کورس کی اجازت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔
اہم بات یہ ہے کہ کالج میں داخل 50 MBBS طلبہ کو اب جمّو و کشمیر کے دیگر تسلیم شدہ میڈیکل کالجز میں سپر نیومریری سیٹس کے تحت منتقل کیا جائے گا، تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔ تاہم، والدین اور طلبہ حلقوں میں اس فیصلے کو لے کر شدید اضطراب پایا جاتا ہے، اور یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ منتقلی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ادارہ پہلے ہی داخلوں کے تنازعے کی وجہ سے خبروں میں تھا۔ کالج کی پہلی بیچ میں طلبہ کی سماجی و مذہبی ساخت کو لے کر مختلف حلقوں میں اعتراضات اٹھائے گئے، جس کے بعد معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ بعض تنظیموں کے احتجاج، بیانات اور دباؤ نے معاملے کو مزید حساس بنا دیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ تنازعہ محض ایک تعلیمی ادارے تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پالیسی، شفافیت اور میرٹ سے متعلق بڑے سوالات کو بھی جنم دیا ہے۔ ریاستی حکومت پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے کہ وہ اس بحران کے مستقل حل کے لیے واضح حکمتِ عملی اختیار کرے۔
فی الحال، شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کی انتظامیہ کی جانب سے تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ادارہ این ایم سی کے فیصلے کو چیلنج کرنے یا خامیوں کے ازالے کے لیے نظرثانی کی درخواست دائر کر سکتا ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جمّو و کشمیر میں میڈیکل ایجوکیشن کے نظام کے لیے ایک وارننگ بیل ہے۔ اگر بروقت اصلاحات، شفاف نگرانی اور معیاری انفراسٹرکچر کو یقینی نہ بنایا گیا تو مستقبل میں مزید ادارے بھی ایسے فیصلوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔
مختصر یہ کہ شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کا معاملہ اب محض ایک ادارے کی منظوری کا نہیں رہا، بلکہ یہ اعلیٰ تعلیم، حکمرانی اور عوامی اعتماد کے امتحان میں تبدیل ہو چکا ہے—جس کے نتائج آنے والے دنوں میں دور رس ثابت ہو سکتے ہیں۔۔۔شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس کی منظوری منسوخ










Leave a Reply