سوشل میڈیا پیجز ڈیجیٹل عہد میں اظہارِ رائے کی وسعت نے جہاں صحافت کو نئی جہتیں عطا کی ہیں، وہیں اس نے ایک خطرناک ابہام کو بھی جنم دیا ہے۔ آج ہر دوسرا سوشل میڈیا پیج، چند ہزار فالوورز اور ایک مختصر تعارف کے ساتھ، خود کو ’’رجسٹرڈ میڈیا‘‘ یا ’’آفیشل نیوز پلیٹ فارم‘‘ قرار دیتا نظر آتا ہے۔
یہ رجحان بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، مگر جب اسے قانون، آئین اور انتظامی نظم و ضبط کی کسوٹی پر پرکھا جائے تو یہ نہ صرف گمراہ کن بلکہ بعض صورتوں میں قابلِ اعتراض بھی بن جاتا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ پوری سنجیدگی کا تقاضا کرتا ہے کہ آیا محض ایک فیس بک پیج، انسٹاگرام اکاؤنٹ یا یوٹیوب چینل قائم کر لینے سے کوئی شخص یا گروہ قانونی طور پر میڈیا ادارہ کہلا سکتا ہے؟ یا پھر ’’رجسٹرڈ میڈیا‘‘ ہونا ایک باقاعدہ قانونی حیثیت، ضابطہ اور ذمہ داری کا نام ہے؟
بھارتی آئین کا آرٹیکل 19اے (1) ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی عطا کرتا ہے، مگر یہ آزادی کسی کو خود ساختہ طور پر صحافی یا میڈیا ادارہ بن جانے کا پروانہ نہیں دیتی۔ آئین نے آزادی تو دی ہے، مگر ساتھ ہی ریاست کو یہ اختیار بھی سونپا ہے کہ وہ عوامی مفاد، نظمِ عامہ اور ذمہ دارانہ صحافت کو یقینی بنانے کے لیے قواعد و ضوابط مرتب کرے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ’’آواز‘‘ اور ’’ادارہ‘‘ کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔
اکثر سوشل میڈیا پیجز اپنی شناخت کے ثبوت کے طور پر MSME یا UDYAM رجسٹریشن کا حوالہ دیتے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ MSME رجسٹریشن دراصل ایک کاروباری شناخت ہے، نہ کہ صحافتی سند۔ Micro, Small and Medium Enterprises Development Act کے تحت دی جانے والی یہ رجسٹریشن صرف اس بات کا اعلان ہوتی ہے کہ متعلقہ ادارہ ایک قانونی کاروباری اکائی ہے، خواہ وہ پرنٹنگ پریس ہو، ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والا ہو یا کوئی اور تجارتی سرگرمی۔ اس رجسٹریشن کا نہ تو براہِ راست صحافت سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی یہ کسی کو قانونی طور پر میڈیا ادارہ قرار دیتی ہے۔
اگر بات پرنٹ میڈیا کی کی جائے تو ہندوستانی قانون اس باب میں نہایت واضح ہے۔ کوئی بھی اخبار یا رسالہ اس وقت تک قانونی حیثیت حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ Press and Registration of Books Act, 1867 کے تحت رجسٹر آف نیوزپیپرز فار انڈیا (RNI) سے منظوری حاصل نہ کرے۔
ایڈیٹر، پبلشر، پرنٹر کی شناخت، اشاعت کی مدت اور ذمہ داری کا تعین یہ سب وہ عناصر ہیں جو ایک اخبار کو محض کاغذ کے مجموعے سے نکال کر ایک ذمہ دار ادارہ بناتے ہیں۔ڈیجیٹل میڈیا کے لیے بھی قانون خاموش نہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی (انٹرمیڈیٹری گائیڈلائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) رولز 2021 کے تحت ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارمز پر لازم ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ پر ناشر اور مدیر کی واضح تفصیل دیں، شکایات کے ازالے کا باقاعدہ نظام قائم کریں اور مواد کی جوابدہی قبول کریں۔
صرف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجودگی، چاہے وہ کتنی ہی مقبول کیوں نہ ہو، ان تقاضوں کو پورا نہیں کرتی۔یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ غور ہے کہ فیس بک، انسٹاگرام یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بذاتِ خود پریس ادارے نہیں بلکہ صارفین کو مواد شائع کرنے کی سہولت فراہم کرنے والے ڈیجیٹل فورمز ہیں۔ ان پر بنایا گیا ہر پیج ایک ذاتی یا گروہی اظہار ہو سکتا ہے، مگر وہ ریاستی یا قانونی سطح پر تسلیم شدہ میڈیا ادارہ نہیں بن جاتا۔جب کوئی سوشل میڈیا پیج خود کو ’’رجسٹرڈ میڈیا‘‘ ظاہر کر کے عوام، سرکاری افسران یا اداروں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو یہ عمل محض اخلاقی سوال ہی نہیں اٹھاتا بلکہ قانونی پیچیدگیوں کو بھی جنم دیتا ہے۔
ہندوستانی قوانین کے مطابق، گمراہ کن دعوے، غلط نمائندگی اور خود ساختہ شناخت بعض حالات میں صارفین کو دھوکہ دینے کے زمرے میں آ سکتی ہے، جس پر متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی ممکن ہے۔اصل میڈیا اور خود ساختہ دعوؤں کے درمیان فرق بہت سادہ مگر نہایت بنیادی ہے۔ اصل میڈیا قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتا ہے، اپنی شناخت، ذمہ داری اور جوابدہی تسلیم کرتا ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر قائم بیشتر صفحات صرف اظہار کا ذریعہ ہوتے ہیں، ادارہ نہیں۔نتیجتاً یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ MSME رجسٹریشن یا سوشل میڈیا پر مقبولیت کسی کو ’’رجسٹرڈ میڈیا‘‘ نہیں بناتی۔ میڈیا ہونا ایک ذمہ دارانہ حیثیت ہے، جو قانون، ضابطے اور عوامی اعتماد کے سہارے قائم ہوتی ہے، نہ کہ محض بائیو میں لکھے گئے چند الفاظ سے۔صحافت اگر سماج کا ضمیر ہے تو اس کی بنیاد سچ، ذمہ داری اور قانونی شعور پر ہونی چاہیے۔ بصورتِ دیگر، شور تو بہت ہوتا ہے، مگر آواز معتبر نہیں رہتی۔صحافت کے نام پر بدتمیزی، بلیک میلنگ اور پروپیگنڈایہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا کے بعض خود ساختہ ’’ہیجیزز‘‘ نے صحافت کے نام پر بدتمیزی کی تمام حدیں عبور کر لی ہیں۔
ان پلیٹ فارمز پر نہ کوئی ادارتی نظم ہوتا ہے، نہ اخلاقی ضابطہ، نہ ذمہ داری کا احساس مگر دعویٰ یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سب کچھ ’’صحافت‘‘ ہے۔ درحقیقت، یہ وہ مقام ہے جہاں صحافت ختم ہو جاتی ہے اور محض شور، انتشار اور ذاتی مفادات کا کھیل شروع ہو جاتا ہے۔ان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ وہ بلا جھجھک کسی بھی فرد کی ذاتی اور گھریلو زندگی کو سرِ عام زیرِ بحث لے آتے ہیں۔
میاں بیوی کے معاملات ہوں، خاندان کے اندرونی اختلافات ہوں یا کسی کی نجی زندگی کے حساس پہلو سب کچھ عوامی تماشہ بنا دیا جاتا ہے، اور پھر بڑی ڈھٹائی سے اسے آزادیٔ صحافت کا نام دے دیا جاتا ہے۔ حالانکہ حقیقی صحافت کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ کسی کی نجی زندگی اس وقت تک خبر نہیں بنتی جب تک وہ براہِ راست عوامی مفاد سے جڑی نہ ہو۔اس سے بھی زیادہ تشویشناک صورتحال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب یہی سوشل میڈیا ہیجیزز سرکاری دفاتر میں تعینات ملازمین اور افسران کو اپنے نشانے پر لے لیتے ہیں۔ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے، غیر قانونی مطالبات کیے جاتے ہیں، اور اگر کوئی افسر یا ملازم ان ناجائز خواہشات کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دے تو فوراً سوشل میڈیا پر ’’انکشافات‘‘ کے نام پر اس کی کردار کشی شروع کر دی جاتی ہے۔ اسے صحافت کہا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ بلیک میلنگ اور دباؤ ڈالنے کا ایک منظم طریقہ ہوتا ہے۔سیاستدانوں کے معاملے میں بھی یہی روش اختیار کی جاتی ہے۔
پالیسی، کارکردگی یا عوامی فیصلوں پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی ذاتی اور گھریلو زندگی کو اچھالا جاتا ہے، خاندان کے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے، اور سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدل دیا جاتا ہے۔ یہ سب کچھ اس دعوے کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ہم ’’بے باک صحافت‘‘ کر رہے ہیں، جبکہ اصل میں یہ صحافت نہیں بلکہ ذاتی ایجنڈے کی تشہیر ہوتی ہے۔
مذہبی رہنماؤں، درگاہوں، مساجد، مدارس اور دیگر مذہبی اداروں کے خلاف جو زبان استعمال کی جاتی ہے، وہ تو صحافت کی روح کے سراسر منافی ہے۔ بدتمیزی، تمسخر، الزام تراشی اور منفی پروپیگنڈا سب کچھ ایک طوفان کی صورت میں برپا کر دیا جاتا ہے، اور پھر یہ کہہ کر دامن جھاڑ لیا جاتا ہے کہ ہم سوال پوچھ رہے ہیں۔ سوال کرنا صحافت ہے، مگر تضحیک اور کردار کشی ہرگز صحافت نہیں۔سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو لوگ خود صحافت کے بنیادی اصول، اس کے اخلاقی ضابطے اور قانونی حدود سے واقف نہیں ہوتے، وہی لوگ سماج کے ہر شعبے میں خود کو استاد، منصف اور نگران سمجھنے لگتے ہیں۔
جنہیں خبر اور افواہ کا فرق معلوم نہیں، وہ ریاست، مذہب، سیاست اور اخلاقیات پر لیکچر دیتے نظر آتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ یہ صحافت نہیں ہوتی۔ یہ ایک منظم پروپیگنڈا گروہ ہوتا ہے، جو سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا کر اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ صحافت کا نام محض ایک نقاب ہوتا ہے، جس کے پیچھے بلیک میلنگ، دباؤ، ذاتی دشمنی اور مفاد پرستی کا کھیل کھیلا جاتا ہےاور بدقسمتی سے یہ سب کچھ کھلے عام ہو رہا ہوتا ہے۔
صحافت کی اصل روح سچ، توازن، ذمہ داری اور اخلاقی شعور میں پوشیدہ ہے۔ جہاں یہ عناصر مفقود ہوں، وہاں چاہے جتنے بھی فالوورز ہوں، چاہے جتنے بھی بڑے دعوے کیے جائیں وہ صحافت نہیں، بلکہ محض شور اور فتنہ ہوتا ہے۔درست۔ ذیل میں میں اسی نکتے کو نئے سرے سے، مکمل روانی، شستہ اور معیاری اسلوب میں، مگر قانونی و صحافتی دائرے کے اندر رہتے ہوئے تحریر کر رہا ہوں، تاکہ بات سخت بھی ہو، مدلل بھی ہو، اور شائع کرنے کے قابل بھی رہے۔
یہ حقیقت اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ سوشل میڈیا پر خود کو ’’صحافی‘‘ یا ’’رجسٹرڈ میڈیا‘‘ کہنے والے بہت سے افراد دراصل آزاد صحافت نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ وہ کسی نہ کسی مخصوص ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے خود ساختہ فیس بُک صحافیوں کے صفحات پر خبر سے زیادہ بدتمیزی، تنقید سے زیادہ نفرت، اختلاف سے زیادہ انتشار اور تحقیق سے زیادہ الزام تراشی دکھائی دیتی ہے۔
ان سوشل میڈیا ہیجیزز کا طرزِ عمل خود ان کے اصل مقصد کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ یہاں صحافت کا بنیادی اصول یعنی توازن، غیر جانب داری اور عوامی مفاد کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے برعکس ہر معاملے کو ذاتی دشمنی میں بدل دینا، ہر اختلاف کو سازش قرار دینا، اور ہر مخالف کو گالی، طعنہ یا بہتان کے ذریعے خاموش کرانے کی کوشش کرنا ہی ان کا وطیرہ بن چکا ہے۔سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہی لوگ اپنے مخصوص ’’آقاؤں‘‘ یا سرپرستوں کو غیر معمولی انداز میں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔
ان کے لیے تنقید حرام، سوال جرم اور احتساب بغاوت بن جاتا ہے، جبکہ مخالفین کے لیے زبان، اخلاق اور حدود کی کوئی قید باقی نہیں رہتی۔ یہ طرزِ عمل خود اس بات کا ثبوت ہے کہ معاملہ صحافت کا نہیں، بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک کا ہے، جس کا مقصد رائے عامہ کو متاثر کرنا اور مخصوص مفادات کا تحفظ کرنا ہوتا ہے۔ایسے عناصر نہ صرف صحافت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ سماجی ہم آہنگی، ادارہ جاتی وقار اور عوامی اعتماد کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔
الزام، بہتان اور کردار کشی کے ذریعے لوگوں کو خوف زدہ کرنا، سرکاری افسران، مذہبی رہنماؤں اور سیاسی شخصیات پر دباؤ ڈالنا، اور پھر اسے ’’بے باک صحافت‘‘ کا نام دینا دراصل ایک خطرناک رجحان ہے، جسے نظر انداز کرنا اب ممکن نہیں رہا۔۔۔سوشل میڈیا پیجز
اب وقت آ چکا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ اس مسئلے کو محض اخلاقی یا سماجی خرابی سمجھ کر نظر انداز نہ کرے، بلکہ اسے ایک سنجیدہ انتظامی اور قانونی چیلنج کے طور پر دیکھے۔ ایسے غنڈہ صفت عناصر، جو صحافت کی آڑ میں بدتمیزی، بلیک میلنگ اور انتشار پھیلا رہے ہیں، ان کے خلاف مؤثر نگرانی، قانونی جانچ اور ضابطے کے تحت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ آزادیٔ اظہار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے، مگر اسی آزادی کے نام پر بد نظمی اور بدنیتی کو کھلی چھوٹ دینا بھی ریاستی کمزوری کہلائے گی۔صحافت کا مطلب سوال اٹھانا ہے، مگر ذمہ داری کے ساتھ؛ تنقید کرنا ہے، مگر دلیل کے ساتھ؛ اور سچ سامنے لانا ہے، مگر قانون اور اخلاق کے دائرے میں رہ کر۔ جو لوگ ان اصولوں کو پامال کر کے صرف اپنے مفادات یا اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، وہ نہ صحافی ہیں اور نہ ہی میڈیا وہ محض ایک ہجوم ہیں، جو سوشل میڈیا کے شور میں صحافت کی آواز دبانا چاہتے ہیں۔اگر صحافت کو واقعی زندہ اور باوقار رکھنا ہے تو ایسے خود ساختہ فیس بُک صحافیوں کا احتساب ناگزیر ہے قانون کے ذریعے، ضابطے کے تحت اور ادارہ جاتی نظم کے ساتھ۔ یہی راستہ صحافت کو پروپیگنڈا سے، اور سچ کو شور سے الگ کر سکتا ہے











Leave a Reply