POONCH MIRROR

An Independent Urdu & English News Portal

شبِ قدر کی عظیم الشان محفل: مرکزی جامع مسجد پونچھ میں قرآن کی عظمت، ایمان کی حفاظت اور امت کی اصلاح پر زور

قرآن نے انسانیت کو رنگ، نسل اور قومیت کے تعصبات سے نکال کر اخوت و مساوات کا درس دیا

قرآن گم گشتگانِ راہ کو منزلِ ہدایت تک پہنچانے والی الٰہی کتاب ہے / مفتی فاروق حسین مصباحی

لیلۃ القدر اجتماع، مرکزی جامع مسجد پونچھ: پونچھ شہر کی تاریخی مرکزی جامع مسجد میں شبِ قدر کے بابرکت موقع پر ایک روح پرور اجتماع منعقد ہوا جس میں بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر میر واعظ پونچھ مفتی فاروق حسین مصباحی نے قرآن مجید کی عظمت، ایمان کی حفاظت، لیلۃ القدر کی فضیلت اور موجودہ دور کے فتنوں کے بارے میں تفصیلی خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کو قرآن و سنت سے مضبوط تعلق قائم رکھنے کی تلقین کی۔

پُونچھ مِرَر نیوز ڈیسک مارچ 17, 2026

پُونچھ //: شہر پونچھ کی تاریخی مرکزی جامع مسجد میں شبِ قدر کے بابرکت موقع پر ایک عظیم الشان روحانی اجتماع منعقد ہوا جس میں شہر اور گرد و نواح سے بڑی تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر میر واعظ پونچھ، مولانا مفتی فاروق حسین مصباحی نے ایک طویل اور فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے قرآن مجید کی عظمت، لیلۃ القدر کی فضیلت، ایمان کی حفاظت اور موجودہ دور کے فتنوں کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی۔

اپنے خطاب کے آغاز میں مولانا مصباحی نے قرآن کریم کی شان بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن محض ایک کتاب نہیں بلکہ ہدایت، شفا اور رحمت کا سرچشمہ ہے۔ انہوں نے آیت وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن انسان کی زندگی کو بدلنے والی کتاب ہے اور یہی وہ عظیم کلام ہے جو انسان کو دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

See also  سیڑھی چوہانہ میں ختمِ قرآن کی تقریب، علما کا قرآن سے عملی وابستگی پر زور

انہوں نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قبولِ اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کی تاثیر ایسی ہے کہ سخت ترین دلوں کو بھی نرم کر دیتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اسلام کے سخت مخالف تھے، جب سورۂ طٰہٰ کی تلاوت سنی تو ان کا دل بدل گیا اور وہ اسلام کے عظیم سپاہی بن گئے۔ مولانا کے مطابق یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ وہ انسان کی شخصیت اور تاریخ دونوں کو تبدیل کر دیتا ہے۔

مولانا مصباحی نے اپنے خطاب میں اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلائی کہ اللہ تعالیٰ کی چاروں بڑی آسمانی کتابیں ماہِ رمضان میں نازل ہوئیں۔ ان کے مطابق تورات رمضان کی آٹھ تاریخ کو، زبور تیرہ رمضان کو، انجیل اٹھارہ رمضان کو جبکہ قرآن مجید ستائیس رمضان کی شب میں نازل ہوا۔ انہوں نے اس ترتیب کو چاند کے بڑھنے اور گھٹنے کی مثال سے واضح کرتے ہوئے کہا کہ جب قرآن نازل ہوا تو دنیا جہالت اور ظلم کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی اور قرآن نے اس تاریکی کو نور میں بدل دیا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن کے نزول سے قبل دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم، جہالت اور شرک کا دور دورہ تھا۔ عورتوں پر ظلم، کمزوروں کا استحصال اور انسانوں کو طبقوں میں تقسیم کرنا عام بات تھی، لیکن قرآن نے مساوات اور انسانیت کا درس دے کر معاشرے کو یکسر بدل دیا۔

مولانا نے کہا کہ لفظ قرآن کے معنی ایسی کتاب کے ہیں جو سب سے زیادہ پڑھی جائے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن مجید ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باوجود مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قرآن کو نہ صحیح طریقے سے پڑھتی ہے اور نہ اس کی تعلیمات کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔

See also  Jamaat-e-Ahle Sunnat Jammu Province Declares Eid-ul-Fitr on 21 March 2026 After Unseen Shawwal Moon

انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ قرآن کو سمجھنے کے لیے براہ راست حضور اکرم ﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے، جبکہ آج کے دور میں بہت سے لوگ بغیر علم کے قرآن کی تشریح کرنے لگے ہیں۔

خطاب کے دوران میر واعظ پونچھ نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایمان انسان کی سب سے قیمتی دولت ہے اور آج کے دور میں اس پر سب سے بڑا حملہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کچھ لوگ مذہبی حلیہ اختیار کر کے قرآن و حدیث کے نام پر گمراہ کن نظریات پھیلا رہے ہیں، لہٰذا نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ مستند علماء سے دین سیکھیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ صراطِ مستقیم وہ راستہ ہے جو حضور اکرم ﷺ، صحابہ کرام، تابعین، ائمہ مجتہدین اور اولیائے کرام کے ذریعے امت تک پہنچا ہے اور اسی راستے پر چلنے میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

مولانا مصباحی نے لیلۃ القدر کی عظمت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ رات ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ انہوں نے احادیث کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس رات حضرت جبرائیل امین علیہ السلام فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر نزول فرماتے ہیں اور اللہ کی عبادت میں مشغول بندوں کو سلام کرتے ہیں، ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور ان کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو شخص خلوصِ دل سے عبادت کرتا ہے اس کے دل میں نرمی اور آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر متوجہ ہوئی ہے۔

See also  Senior Clerics Condemn Kalakote Broi Urs Controversy, Demand Immediate Administrative Action

اپنے خطاب کے اختتام پر مولانا نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لیلۃ القدر جیسی بابرکت رات میں بھی چار طرح کے لوگ اللہ کی مغفرت سے محروم رہتے ہیں:شراب پینے والاوالدین کا نافرمانرشتہ داروں سے تعلق توڑنے والادل میں کینہ رکھنے والا

انہوں نے حاضرین کو نصیحت کی کہ اگر کسی کے دل میں کینہ ہے یا وہ کسی سے ناراض ہے تو فوراً معافی مانگ لے، کیونکہ توبہ کرنے والے کو اللہ تعالیٰ ضرور معاف فرماتا ہے۔

مولانا مصباحی نے اس بات پر زور دیا کہ شبِ قدر اور دیگر مقدس راتیں تفریح یا وقت گزاری کے لیے نہیں بلکہ عبادت، توبہ اور اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لیے ہیں۔ انہوں نے لوگوں کو تلقین کی کہ وہ فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کریں، قرآن کی تلاوت کریں اور دین سیکھنے کے لیے علماء کی مجالس میں شریک ہوں۔

آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ اگر نمازیوں کی دلچسپی رہی تو مرکزی جامع مسجد میں دوبارہ درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جائے گا تاکہ عوام کو قرآن و حدیث کی تعلیمات سے روشناس کرایا جا سکے۔

اجتماع کے اختتام پر صلوٰۃ و سلام اور اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا جس میں امتِ مسلمہ کی سلامتی، مغفرت اور ملک میں امن و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *